Thursday, March 26, 2020

آفتیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک آسمانی اور ایک زمینی

دلچسپ اور سبق آموز واقعہ ۔۔۔۔۔۔
   
ہارون الرشید کے دور میں ایک بار بہت بڑا قحط پڑ گیا۔ اس قحط کے اثرات سمرقند سے لے کر بغداد تک اور کوفہ سے لے کر مراکش تک ظاہر ہونے لگے۔ ہارون الرشید نے اس قحط سے نمٹنے کیلئے تمام تدبیریں آزما لیں‘اس نے غلے کے گودام کھول دئیے‘ ٹیکس معاف کر دئیے‘ پوری سلطنت میں سرکاری لنگر خانے قائم کر دئیے اور تمام امراءاور تاجروں کو متاثرین کی مدد کیلئے موبلائز کر دیا لیکن اس کے باوجود عوام کے حالات ٹھیک نہ ہوئے۔

ایک رات ہارون الرشید شدید ٹینشن میں تھا‘ اسے نیند نہیں آ رہی تھی‘ ٹینشن کے اس عالم میں اس نے اپنے وزیراعظم یحییٰ بن خالد کو طلب کیا‘ یحییٰ بن خالد ہارون الرشید کااستاد بھی تھا۔اس نے بچپن سے بادشاہ کی تربیت کی تھی۔ ہارون الرشید نے یحییٰ خالد سے کہا ”استادمحترم آپ مجھے کوئی ایسی کہانی‘ کوئی ایسی داستان سنائیں جسے سن کر مجھے قرار آ جائے“ یحییٰ بن خالد مسکرایا اور عرض کیا ”بادشاہ سلامت میں نے اللہ کے کسی نبی کی حیات طیبہ میں ایک داستان پڑھی تھی داستان مقدر‘ قسمت اور اللہ کی رضا کی سب سے بڑی اور شاندار تشریح ہے۔
آپ اگراجازت دیں تو میں وہ داستان آپ کے سامنے دہرا دوں“بادشاہ نے بے چینی سے فرمایا”یا استاد فوراً فرمائیے۔ میری جان حلق میں اٹک رہی ہے“ یحییٰ خالد نے عرض کیا ” کسی جنگل میں ایک بندریا سفر کیلئے روانہ ہونے لگی‘ اس کا ایک بچہ تھا‘ وہ بچے کو ساتھ نہیں لے جا سکتی تھی چنانچہ وہ شیر کے پاس گئی اور اس سے عرض کیا ”جناب آپ جنگل کے بادشاہ ہیں‘ میں سفر پر روانہ ہونے لگی ہوں‘ میری خواہش ہے آپ میرے بچے کی حفاظت اپنے ذمے لے لیں“ شیر نے حامی بھر لی‘ بندریا نے اپنا بچہ شیر کے حوالے کر دیا۔

 شیر نے بچہ اپنے کندھے پر بٹھا لیا‘ بندریا سفر پر روانہ ہوگئی‘ اب شیر روزانہ بندر کے بچے کو کندھے پر بٹھاتا اور جنگل میں اپنے روزمرہ کے کام کرتا رہتا۔ ایک دن وہ جنگل میں گھوم رہا تھا کہ اچانک آسمان سے ایک چیل نے ڈائی لگائی‘ شیر کے قریب پہنچی‘ بندریا کا بچہ اٹھایا اور آسمان میں گم ہو گئی‘ شیر جنگل میں بھاگا دوڑا لیکن وہ چیل کو نہ پکڑ سکا“یحییٰ خالد رکا‘ اس نے سانس لیا اور خلیفہ ہارون الرشید سے عرض کیا ”بادشاہ سلامت چند دن بعد بندریا واپس آئی اور شیر سے اپنے بچے کا مطالبہ کر دیا۔
شیر نے شرمندگی سے جواب دیا‘تمہارا بچہ تو چیل لے گئی ہے‘ بندریا کو غصہ آگیا اور اس نے چلا کر کہا ”تم کیسے بادشاہ ہو‘ تم ایک امانت کی حفاظت نہیں کر سکے‘ تم اس سارے جنگل کا نظام کیسے چلاﺅ گے“شیر نے افسوس سے سر ہلایا اور بولا
 ”میں زمین کا بادشاہ ہوں‘ اگر زمین سے کوئی آفت تمہارے بچے کی طرف بڑھتی تو میں اسے روک لیتا لیکن یہ آفت آسمان سے اتری تھی اور آسمان کی آفتیں صرف اور صرف آسمان والا روک سکتا ہے۔

یہ کہانی سنانے کے بعد یحییٰ بن خالد نے ہارون الرشید سے عرض کیا ”بادشاہ سلامت قحط کی یہ آفت بھی اگر زمین سے نکلی ہوتی تو آپ اسے روک لیتے‘ یہ آسمان کا عذاب ہے‘ اسے صرف اللہ تعالیٰ روک سکتا ہے چنانچہ آپ اسے رکوانے کیلئے بادشاہ نہ بنیں‘ فقیر بنیں‘ یہ آفت رک جائے گی۔

دنیا میں آفتیں دو قسم کی ہوتی ہیں‘
 آسمانی مصیبتیں اور زمینی آفتیں۔
 آسمانی آفت سے بچنے کیلئے اللہ تعالیٰ کا راضی ہونا ضروری ہوتا ہے جبکہ زمینی آفت سے بچاﺅ کیلئے انسانوں کامتحد ہونا‘ وسائل کا بھر پور استعمال اور حکمرانوں کا اخلاص درکار ہوتا ہے۔
یحییٰ بن خالد نے ہارون الرشید کو کہا تھا

>>>>آسمانی آفتیں اس وقت تک ختم نہیں ہوتیں جب تک انسان اپنے رب کو راضی نہیں کر لیتا آپ اس آفت کامقابلہ بادشاہ بن کر نہیں کر سکیں گے چنانچہ
 آپ فقیر بن جائیے۔
اللہ کے حضور گر جائیے
 اس سے توبہ کیجئے‘
 اس سے مدد مانگیے۔
دنیا کے تمام مسائل اوران کے حل کے درمیان صرف اتنا فاصلہ ہوتا ہے
جتنا ماتھے اور جائے نماز میں ہوتا ہے
 لیکن افسوس ہم اپنے مسائل کے حل کیلئے سات سمندر پار تو جا سکتے ہیں لیکن ماتھے اور جائے نماز کے درمیان موجود چند انچ کا فاصلہ طے نہیں کر سکتے....
(نقل کیا ہوا)

Monday, January 27, 2020

حضرت ابو غفاری رضی اللہ تعالی عنہ کا قبول اسلام

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ اپنے اسلام لانے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
"آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ﷺ پر وحی آنے سے بھی تین سال پہلے سے میں اللہ تعالیٰ کے لئے نماز پڑھا کرتا تھا اور جس طرف اللہ تعالیٰ میرا رخ کردیتے،میں اسی طرف چل پڑتا تھا ـ اسی زمانہ میں ہمیں معلوم ہوا کہ مکہ معظمہ میں ایک شخص ظاہر ہوا ہے،اس کا دعویٰ ہے کہ وہ نبی ہے ـ یہ سن کر میں نے اپنے بھائی انیس سے کہا :
" تم اس شخص کے پاس جاؤ ،اس سے بات چیت کرو اور آکر مجھے اس بات چیت کے بارے میں بتاؤ "ـ
چنانچہ انیس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ﷺ سے ملاقات کی،جب وہ واپس آئے تو میں نے ان سے آپ ﷺ کے بارے میں پوچھاـ انہوں نے بتایا :
" اللہ کی قسم ! میں ایک ایسے شخص کے پاس سے آ رہا ہوں جو اچھائیوں کا حکم دیتا ہے اور برائیوں سے روکتا ہے اور ایک روایت میں ہے کہ میں نے تمھیں اسی شخص کے دین پر پایا ہے ـ اس کا دعویٰ ہے کہ اسے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے ـ میں نے اس شخص کو دیکھا کہ وہ نیکی اور بلند اخلاق کی تعلیم دیتا ہےـ"
میں نے پوچھا :
"لوگ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟"
انیس نے بتایا:
"لوگ اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ کاہن اور جادوگر ہے مگر اللٰہ کی قسم وہ شخص سچا ہے اور وہ لوگ جھوٹے ہیں ۔"
یہ تمام باتیں سن کر میں نے کہا:
"بس کافی ہے، میں خود جاکر ان سے ملتا ہوں ۔"
انیس نے فوراًکہا:
"ضرور جاکر ملو، مگر مکہ والوں سے بچ کر رہنا۔"
چنانچہ میں نے اپنے موزے پہنے، لاٹھی ہاتھ میں لی اور روانہ ہوگیا، جب میں مکہ پہنچا تو میں نے لوگوں کے سامنے ایسا ظاہر کیا، جیسے میں اس شخص کو جانتا ہی نہیں اور اس کے بارے میں پوچھنا بھی پسند نہیں کرتا - میں ایک ماہ تک مسجد حرام میں ٹھہرا رہا، میرے پاس سوائے زم زم کے کھانے کو کچھ نہیں تھا - اس کے باوجود میں زم زم کی برکت سے موٹا ہوگیا - میرے پیٹ کی سلوٹیں ختم ہوگئیں - مجھے بھوک کا بالکل احساس نہیں ہوتا تھا - ایک رات جب حرم میں کوئی طواف کرنے والا نہیں تھا، اللّٰہ کے رسول ایک ساتھی(ابوبکر رضی اللّٰہ عنہ) کے ساتھ وہاں آئے اور بیت اللٰہ کا طواف کرنے لگے - اس کے بعد آپ نے اور آپ کے ساتھی نے نماز پڑھی - جب آپ نماز سے فارغ ہوگئے تو میں آپ کے نزدیک چلا گیا اور بولا:
"السلام علیک یا رسول اللّٰہ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللّٰہ تعالٰی کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللٰہ علیہ وسلم اللّٰہ کے رسول ہیں -"
میں نے محسوس کیا، حضورنبی کریم صلی اللٰہ علیہ وسلم کے چہرے پر خوشی کے آثار نمودار ہوگئے - پھر آپ نے مجھ سے پوچھا:
"تم کون ہو -"
میں نے جواب میں کہا:
’’جی میں غفار قبیلے کا ہوں ‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے پوچھا:
’’یہاں کب سے آئے ہوئے ہو؟‘‘
میں نے عرض کیا:
تیس دن اور تیس راتوں سے یہاں ہوں ‘‘۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:
تمہیں کھانا کون کھلاتا ہے؟‘‘
میں نے عرض کی:
میرے پاس سوائے زم زم کے کوئی کھانا نہیں ،اس کو پی پی کر میں موٹا ہو گیا ہوں ، یہاں تک کہ میرے پیٹ کی سلوٹیں تک ختم ہو گئی ہیں اور مجھے بھوک کا بالکل احساس نہیں ہوتا‘‘۔
آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا‘
مبارک ہو ،یہ زم زم بہترین کھانا اور ہر بیماری کی دوا ہے‘‘۔
زم زم کے بارے میں احادیث میں آتا ہے، اگر تم آب زمزم کو اس نیت سے پیو کہ اللہ تعالی تمہیں اس کے ذریعے بیماریوں سے شفا عطا فرمائے تواللہ تعالی شفا عطا فرماتا ہے اوراگر اس نیت سے پیا جائے کہ اس کے ذریعے پیٹ بھر جائے اور بھوک نہ رہے تو آدمی شکم سیر ہو جاتا ہے اور اگر اس نیت سے پیا جائے کہ پیاس کا اثر باقی نہ رہے تو پیاس ختم ہو جاتی ہے۔اس کے ذریعے اللہ تعالی نے اسماعیل علیہ السلام کو سیراب کیا تھا۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ جی بھر کر زم زم کا پانی پینا اپنے آپ کو نفاق سے دور کرنا ہے۔ اور ایک حدیث میں ہے کہ ہم میں اور منافقوں میں یہ فرق ہے کہ وہ لوگ زم زم سے سیرابی حاصل نہیں کرتے۔
ہاں تو بات ہو رہی تھی حضرت ابو ذر غفاری  رضی اللہ عنہ کی ۔۔۔کہا جاتا ہے ،ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ اسلام میں پیلے آدمی ہیں جنہوں نے آپ ﷺ کو اسلامی سلام کے الفاظ کے مطابق سلام کیا ۔ ان سے پہلے کسی نے آپ ﷺ کو ان الفاظ میں سلام نہیں کیا تھا۔
اب ابو ذر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ سے اس بات پر بیعت کی کہ اللہ تعالی کے معاملے میں وہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں گھبرائیں گے اور یہ کہ ہمیشہ حق اور سچی بات کہیں گے چاہے حق سننے والے کے لئے کتنا ہی کڑوا کیوں نہ ہو۔
یہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ملک شام کے علاقے میں ہجرت کر گئے تھے۔پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں انہیں شام سے واپس بلا لیا گیا اور پھر یہ ربذہ کے مقام پر آ کر رہنے لگے تھے۔ ربذہ کے مقام پر ہی ان کی وفات ہوئی تھی۔
ان کے ایمان لانے کے بارے میں ایک روایت یہ ہے کہ جب یہ مکہ معظمہ آئے تو ان کی ملاقات حضرت علیؓ سے ہوئی تھی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہی ان کو آپ ﷺ سے ملوایا تھا۔
ابو ذر ضی اللہ عنہ کہتے ہیں :
بیعت کرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  انہیں ساتھ لے گئے۔ ایک جگہ حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ نے ایک دروازہ کھولا ،ہم اندر داخل ہوئے،ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ہمیں انگور پیش کیے۔ اس طرح یہ پہلا کھانا تھا جو میں نے مکہ میں آنے کے بعد کھایا۔‘‘
اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:
اے ابو ذررضی اللہ عنہ اس معاملے کو ابھی چھپائے رکھنا، اب تو تم اپنی قوم میں واپس جاؤ اور انہیں بتاؤ تاکہ وہ لوگ میرے پاس آ سکیں ، پھر جب تمہیں معلوم ہو کہ ہم نے خود اپنے معاملہ کا کھلم کھلا اعلان کر دیا ہے تو اس وقت تم ہمارے پاس آ جانا۔‘‘
آپ ﷺ کی بات سن کر حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ بولے:
’’قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو سچائی دے کر بھیجا، میں ان لوگوں کے درمیان کھڑے ہو کر پکار پکار کر اعلان کروں گا‘‘۔
حضرت ابو ذررضی اللہ عنہ کہتے ہیں ’’میں ایمان لانے والے دیہاتی لوگوں میں سے پانچواں آدمی تھا‘‘۔غرض جس وقت قریش کے لوگ حرم میں جمع ہوئے، انہوں نے بلند آواز میں چلا کر کہا:
میں گواہی دیتا ہوں سوالے اللہ کے کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم  اللہ تعالی کے رسول ہیں ‘‘۔
بلند آواز میں یہ اعلان سن کر قریشیوں نے کہا:
اس بددین کو پکڑ لو‘‘۔
انہوں نے حضرت ابو ذررضی اللہ عنہ کے پکڑ لیا اور بے انتہا مارا۔ایک روایت میں الفاظ یہ ہیں ،وہ لوگ ان پر چڑھ دوڑے۔ پوری قوت سے انہیں مارے لگے۔ یہاں تک کہ وہ بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ اس وقت حضرت عباس رضی اللہ عنہ درمیان میں آگئے۔ وہ ان پر جھک گئے اور قریشیوں سے کہا:
تمہارا برا ہو ! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ یہ شخص قبیلہ غفار سے ہے ان کا علاقہ تمہاری تجارت کا راستہ ہے۔‘‘
ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ قبیلہ غفار کے لوگ تمہارا راستہ بند کر دیں گے اس پر ان لوگوں نے انہیں چھوڑ دیا۔
ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس کے بعد میں زم زم کے کنویں کے پاس آیا اپنے بدن سے خون دھویا اگلے دن میں نے پھر اعلان کیا:
’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔‘‘
انہوں نے پھر مجھے مارا ۔ اس روز بھی حضرت عباس رضی اللہ عنہ ہی نے مجھے ان سے چھڑایا۔ پھر میں وہاں سے واپس ہوا اور اپنے بھائی انیس کے پاس آیا۔

Friday, January 11, 2019

Sunday, January 6, 2019

Friday, January 4, 2019

Tu Kuja Man Kuja




Tu Kuja Man Kuja

Tu Aameer e Haram Main Faqeer e Ajam

There Gun Aur Ye Lab Main Talab Hi Talab

Tu Ata Hi Ata

Tu Kuja Man Kuja

Hafiz Muhammad Rihan Roofi

Please Like And Share Karen

Thanks

Monday, December 3, 2018

بکری کان جھاڑتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی


بکری کان جھاڑتی اُٹھ کھڑی ہوئی!
مشہورصحابیِ رسول حَضْرتِ سَیِّدُنا جَابِررَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ بَیان کرتے ہیں کہ (غَزوَۂ خَنْدق کے موقع پر) خَنْدق کھودتے وَقْت اچانک ایک ایسی چَٹان نُمودار ہو گئی جو کسی سے نہ ٹُوٹتی تھی۔ جب ہم نے بارگاہِ رِسَالَت صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں یہ ماجرا عَرْض کیا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ اُٹھے، تین دن کا فاقہ تھا اور پیٹ مُبارَک پر پتّھر بندھاہوا تھا،آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنے دَسْتِ مُبارَک سے پھاؤڑا مارا تو وہ چَٹان ریت کے بُھربُھرے ٹِیلے کی طَرح بِکھر گئی۔
(بخاری،کتاب المغازی،باب غزوۃ الخندق، الحدیث :۴۱۰۱، ۳/۵۱)
ایک اور رِوَایَت میں یوں بھی آیا ہے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اُس چَٹان پر تین مَرتبہ پھاؤڑا مارا، ہر ضَرب پر اُس میں سے ایک روشنی نکلتی تھی اور اس روشنی میں آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے شام و اِیران اور یَمَن کے شہروں کو دیکھ لیا اور اِن تینوں مُلکوں کے فَتْح ہونے کی صَحَابَۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کوبِشَارَت دی۔
(المواھب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی،باب غزوۃ الخندق...الخ، ۳/۳۱)
حَضْرت سَیِّدُناجَابِر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فرماتے ہیں کہ مسلسل فاقوں کی وجہ سے  نبیِ اکرم، رسولِ محتشم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے شکم ِاَقْدَس (پیٹ مبارک)پر پتّھر بندھا ہوا دیکھ کر میرا دل بھر آیا، میں حُضُورصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے اِجازَت لے کر اپنے گھر آیا اور اپنی اَہْلِیَّہ سے کہا کہ میں نے نبیِ اَکْرَم، نُورِ مُجَسّم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اِس قَدر شدید بُھوک کی حالت میں دیکھا ہے کہ مجھ میں صَبْر کی تاب نہیں رہی۔ کیا گھر میں کُچھ کھانا ہے؟اُنہوں نے کہا کہ گھر میں ایک صَاع (تقریباً چارکلو) جَو کے سِوا کُچھ بھی نہیں ،میں نے کہا کہ تُم جلدی سے اُس جَو کو پیس کر گُوندھ لو ،پھر میں نے اپنے گھر کا پَلا ہوا ایک بکری کا بچّہ ذَبْح کرکے اس کی بوٹیاں بنا ئیں اور زَوجَہ سے کہا کہ جَلد اَزْ جَلد سالن اور روٹیاں تَیّار کر لو،میں حُضُور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بُلا کرلاتا ہوں،چلتے وَقْت زَوجَہ نے کہا:دیکھو! آقا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے عِلاوہ صِرْف چند ہی اَصْحاب کو ساتھ لانا، کیونکہ کھانا کم ہے، زیادہ افراد کو لا کر مجھے رُسْوا مت کر دینا۔
حَضْرت سیدناجابررَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ نے خَنْدق پرآ کر آہستگی سے عَرْض کیا:یَارَسُوْلَ اللہ!صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ایک صاع آٹے کی روٹیاں اور ایک بکری کے بچّے  کا گوشت میں نے گھر میں تیار کروایا ہے ،لہٰذا آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ چند لوگوں کے ساتھ چل کر تَناوُل فرما لیں،یہ سُن کر حُضُور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ اے خَنْدق والو!جابر نے دَعْوتِ طَعام (کھانے کی دعوت)دی ہے، لہٰذا سب لوگ ان کے گھر چل کر کھانا کھا لیں، پھر مُجھ سے فرمایا کہ جب تک میں نہ آجاؤں، روٹیاں مت پکوانا، چُنانچہ جب حُضُورصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ تَشْریف لائے تو گوندھے ہوئے آٹے میں اپنا لُعابِ دَہْن (تھوک مبارک)ڈال کر بَرَکت کی دُعا فرمائی اورگوشت کی ہانڈی میں بھی اپنا لُعابِ دَہْن ڈال دیا۔ پھر روٹی پکانے کا حکم دیا اور فرمایا کہ ہانڈی چُولھے سے نہ اُتاری جائے ۔جب روٹیاں پک گئیں تو حَضْرتِ سَیِّدُناجابر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کی اَہْلِیَّہ نے ہانڈی سے گوشت نکال نکال کر دینا شُروع کیا ،ایک ہزار صَحَابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے آسُودہ ہو کر کھانا کھا لیا مگر گُوندھا ہواآٹا جتنا پہلے تھا اُتنا ہی رہااور ہانڈی چُولھے پر بَدَسْتُور جوش مارتی رہی۔
(بخاری،کتاب المغا زی، باب غزوۃ الخندق. ..الخ ، الحدیث:۴۱۰۱،۴۱۰۲،۳/۵۱ ملخصاً)

حضرت سیدناجابر رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں کہ پھر نبیِ کریم، رسولِ عظیم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ایک برتن کے بیچ میں کھائی ہوئی ہڈیوں کو جمع کیا اور ان پر اپنا ہاتھ مبارَک رکھا اور کچھ کلام پڑھا جِسے میں نے نہیں سُنا۔ ابھی جس بکری کا گوشت کھایا تھا وُہی بکری یکایک کان جھاڑتے ہوئے اُٹھ کھڑی ہوئی، آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مجھ سے فرمایا:اپنی بکری لے جاؤ! میں بکری اپنی زوجہ محترمہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کے پاس لے آیا ۔وہ (حیرت سے ) بولیں:یہ کیا؟ میں نے کہا:وَاللہ! یہ ہماری وُہی بکری ہے جس کو ہم نے ذَبح کیا تھا۔ دُعائے مصطَفٰے صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے اللہ پاک نے اسے زندہ کر دیا ہے! یہ سُن کر ان کی زوجہ محترمہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا بے ساختہ پکار اُٹھیں ، میں گواہی دیتی ہوں کہ بے شک وہ اللہ پاک کے رسول صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہیں۔
(الخصائصُ الکبرٰی، ۲/ ۱۱۲)




Saturday, November 10, 2018

تمام عاشقان رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کو ماہ ربیع النور مبارک ہو

ﻣﯿﮟ ﮨﻮﻧﭩﺎﮞ ﺗﮯ ﻟﮯ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺩﺍﮞ ﺩﮮ ﺗﺤﻔﮯ
ﺍﮮ ﺣﺴﺮﺕ ﺍﮮ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻭﺍﮞ ﻣﺪﯾﻨﮯ
ﺁﻗﺎﷺ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﯾﺎﮞ ﻗﺪﻣﺎﮞ ﻭﭺ ﺑﮯ ﮐﮯ
ﺩﮐﮫ ﺳﺎﺭﮮ ﺩﻝ ﺩﮮ ﺳﻨﺎﻭﺍﮞ ﻣﺪﯾﻨﮯ
ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺘﮯ ﮔﻨﺎﮦ ﺟﯿﮭﮍﮮ ﺩﻧﯿﺎ ﺗﻮﮞ ﺍُﻭﻟﮯ
ﮐﺴﮯ ﻭﯼ ﻧﺎﮞ ﺟﺎﻧﮯ ﺍﻭ ﺭﺍﺯ ﻣﯿﺮﮮ
ﮈﮔﺪﮮ ﻧﮯ ﺍﮐﮭﯿﻮﮞ ﻧﺪﺍﻣﺖ ﺩﮮ ﺍﺗﮭﺮﻭ
ﻣﯿﮟ ﺍﻭ ﺭﺍﺯ ﮐﯿﻮﯾﮟ ﻟﮑﺎﻭﺍﮞ ﻣﺪﯾﻨﮯ؟
ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮑﮫ ﭼﻤﮑﻦ ﺟﮯ ﻣﻨﻈﻮﺭﯼ ﮨﻮﮮ
ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺿﮯ ﺩﯼ ﺟﺎﻟﯽ ﻧﻮﮞ ﮔﻞ ﻧﺎﻝ ﻻﻭﺍﮞ
ﺭﺏ ﻣﯿﻨﻮﮞ ﺍﯾﺴﺎ ﻭﯼ ﺩﻥ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﮐﮭﺎﻭﮮ
ﻣﯿﮟ ﻣﯿﻼﺩ ﺗﯿﺮﺍﷺ ﻣﻨﺎﻭﺍﮞ ﻣﺪﯾﻨﮯ
ﺍِﮐﻮ ﺗﻤﻨﺎ ﺍﮮ ﮐﻤﻠﮯ ﺟﺌﮯ ﺩﯼ
ﻣﯿﮟ ﻭﯾﮑﮭﺎﮞ ﻣﺪﯾﻨﺎ ﺗﮯ ﺭﮎ ﺟﺎﻥ ﺳﺎﻧﻮﺍﮞ
ﺁﻗﺎﷺ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﺘﺎﮞ ﺩﺍ ﻻﻟﭻ ﻧﺌﯿﮟ ﮐﺮﺩﺍ
ﺗﻤﻨﺎ ﺍﮮ ﮐﻔﻨﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻭﺍﮞ ﻣﺪﯾﻨﮯ
ﺍِﮎ ﺩﻥ ﺗﮯ ﺍﮮ ﺟﺎﻥ ﺟﺎﻧﯽ ﺍﮮ ﺻﺎﺩﻕ
ﺗﮯ ﻓﯿﺮ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﺎﮞ ﺁﻗﺎﷺ ﺩﮮ ﻗﺪﻣﺎﮞ ﻭﭺ ﻧﮑﻠﮯ
ﺭﺏ ﺷﺎﻻ ﺳﻦ ﻟﮯ ﺍﮮ ﻣﯿﺮﯾﺎﮞ ﺩﻋﺎﻭﺍﮞ
ﻣﯿﮟ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺩﺍ ﭘﯿﻨﮉﺍ ﻣﮑﺎﻭﺍﮞ ﻣﺪﯾﻨﮯ
* ﺻَﻠُّﻮﺍ ﻋَﻠَﻰ ﺍﻟْﺤَﺒِﻴْﺐ - ﺻَﻠَّﻰ ﷲُ ﺗَﻌَﺎﻟٰﻰ ﻋَﻠٰﻰ ﻣُﺤَﻤَّﺪ
ﺻَﻠَّﻰ ﷲُ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺍٰﻟِﮧٖ ﻭَﺑَﺎﺭِﮎْ ﻭَﺳَﻠِّﻢ

Friday, November 9, 2018

ماہ ربیع النور

یکم ربيع النور 1440
 عبودیت کا مکمل، مستقل،شعوری، باطنی اور ظاہری اظہار:(  پہلی  قسط)
اللہ تبارک وتعالی کا فرمان عالی شان ہے ، قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ - اے محبوب! تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا
آپ اللہ کی محبوبیت اور مغفرت کے طلبگار ہوں تو اللہ کا اذن عام ہے کہ آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں آپ کو مطلوب و مقصود ضرور عطا ہوجائے گا
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے محبت کا پیمانہ مقرر کردیا
عن أنس بن مالكٍ رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ((لا يؤمن أحدكم حتى أكون أحبَّ إليه من ولده ووالده والناس أجمعين ، یعنی یاد رکھو جب تک تمہاری مجھ سے  محبت اپنی اولاد، اپنے والد اور تمام لوگوں سے زیادہ نہ ہو اس وقت تک تمہارا ایمان کا دعوی ہو ہی نہیں سکتا ( دوسری احادیث میں مال کا بھی ذکر ہے ))

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پسندیدہ ترین عمل نماز تھی جو
عبودیت کا مکمل، مستقل،شعوری، باطنی اور ظاہری اظہار ہے

کتنے خوش نصیب ہیں جو اپنی دعاؤن میں حسن خاتمہ کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں اور عملی طور پر حسن اطاعت پر ہمہ تن گامزن رہتے ہیں، فرائض کی حس ادائیگی، اللہ کی حسن عطا کا لوازمہ ہے
"نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ، حبب إلی من دنیاکم: النساء والطیب، وجعلت قرۃ عینی فی الصلاۃ: (النسائی عشرۃ النساء، حدیث رقم:3391)
"مجھے دنیا کی چیزوں میں عورتیں اور خوشبو بہت محبوب ہیں، اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں کردی گئی ہے۔"
نماز تحفہ معراج ہے، خالق کائنات جیسی عظیم  ہستی نے اپنے اخص الخواص، صاحب عظمت،محبوب،  صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ تحفہ عطا فرمایا، عظمت ربانی اور عظمت رسالت کے تناظر میں یہ تحفہ بھی اتنا ہی عظیم ہے
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان عالیشان کہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں کردی گئ ہے، قابل غور وتدبر ہے
نماز تکبیر ، تسبیح، تحمید، تلاوت، دعا، خشوع، خضوع، رجوع الی اللہ ،  شکر ، صبر، اطاعت ، بندگی اور عبودیت کا اعلی ترین شاہکار ہے
فرمان باری تعالی ہے “ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ - بیشک اللہ پسند کرتا ہے بہت توبہ کرنے والوں کو اور پسند رکھتا ہے ستھروں کو
" وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ - اور ستھرے اللہ کو پیارے ہیں
طہارت شرط نماز ہے، وضو میں مشغول ہوتے ہی آپ اللہ کی طرف سلوک محبوبیت کے زمرہ میں شامل ہوجاتے ہیں
نماز کی ادائیگی، اطاعت کے اکثر لوازمات سے بھر پور ہے
اللہ نے حکم دیا " وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا - اور اس کی بڑائی بولنے کو تکبیر کہو " آپ نماز میں بار بار اللہ اکبر کی صدا لگاتے ہیں
( جاری ہے )

Wednesday, October 3, 2018

سبق آموز تحریر

کہتے ہیں ایک بار ایک شکاری

جنگل سے ایک تیتر پکڑ کر لاتا ہے اوراسے اپنے گھر میں ایک الگ پنجرے میں رکھتاہے اورخوب کاجو کشمش, بادام کھلاتاہے....
جب تیتر بڑا ہوجاتاہے تو اسے پنجرے کے ساتھ ہی لیکرجنگل جاتا ہے.....
وہاں جال بچھاتاہے اور تیترکو وہیں پنجرے میں رکھ کر خود جھاڑی کے پیچھے چھپ جاتاہے اور تیتر سے بولتایے کہ "بول بیٹا بول" تیتر اپنے مالک کی آواز سن کر زور زور سے چلاتا ہے....
اسکی آواز سن کرجنگل کےسارے تیتر(یہ سوچ کرکہ یہ اپنے قوم کاہے ضرورکسی پریشانی میں ہے,چلو مدد کرتے ہیں )
کھنچے چلے آتے ہیں اور شکاری کے بچھائے ہوئے جال میں پھنس جاتے ہیں.....
شکاری مسکراتے ہوئے آتاہے اور پالتو تیتر کو الگ اور سارے تیتروں کو الگ جھولے میں ڈال کر گھر لاتاہے.....
پھر اپنے پالتو تیتر کے سامنے پکڑے گئے سب تیتروں کو ایک ایک کر کے کاٹتاہے مگر پالتو تیتر اف تک نہیں کرتا,اسے اپنے حصہ کی خوراک کاجو,کشمش,بادام جو مل رہاتھا...........
کم وبیش یہی حالت آج کے مسلمانوں کی بھی ہو گئی ہے........
شکاری نے ایسے نہ جانے کتنے تیتر پال رکھے ہیں جن کی وجہ سے قوم دشمن کے جال میں پھنستی ہے اوریہ کٹتا ہوا دیکھتے ہیں مگر اف تک نہیں کرتے کیونکہ انکو انکے حصہ کی خوراک مل جاتی ہے.......!!!

Wednesday, September 5, 2018

ہٹلر یہودیوں سے نفرت کیوں کرتا تھا?


ہٹلر یہودیوں سے نفرت کیوں کرتا تھا
اور ان کو جرمنی سے کیوں نکالا اس نے ؟
یہ وہ سوال ہیں جس کا جواب حاصل کرنے کے لئے کئی کتابیں لکھی گئیں۔ مگر سب سے درست بات یہ ہے کہ ہٹلر جرمن قوم کو دنیا کی بہترین قوم سمجھتا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ صرف جرمن قوم ہی کو دنیا پر حکمرانی کا حق حاصل ہے اور جرمنی کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ ملک سے تمام غدار ختم کر دئے جائیں۔یہ انسان کی ترقی میں رکاوٹ ہیں۔ پہلی جنگ عظیم میں جرمنی میں رہنے والے یہودیوں نے درپردہ جرمن مفاد کے خلاف برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کا ساتھ دیا تھا۔ جرمنی میں رہتے ہوئے جرمنی کے خلاف کام کرنا ہٹلر کے نزدیک ناقابل معافی جرم تھا۔ وہ ان کی پرانی تاریخ سے بھی واقف تھا کہ کیسے انھوں نے اللہ کے پیغمبروں سے بدعہدی کی اور ایک عیسائی ہونے کے ناتے وہ اس سے بھی واقف تھا کہ یہ یہودی علماء ہی تھے جنھوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پھانسی دلوانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ اس لیے وہ انھیں ایک لعنت زدہ نسل سمجھتا تھا اور دنیا کو یہودیوں سے پاک کر دینا چاہتا تھا۔

یہودی، عیسائیوں کی طرح حضرت عیسی علیہ اسلام کو خدا کا بیٹا نہيں مانتے ہيں اور کئی عیسائی حضرت عیسی علیہ اسلام کی خدائیت کو ماننے کے اس انکار کو تکبر کی نشانی سمجھتے تھے۔ کئی صدیوں تک چرچ نے یہ سکھایا کہ حضرت عیسی علیہ اسلام کی موت یہودیوں کی وجہ سے ہوئی جبکہ آج کے مورخین اور چرچیہ سکھاتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ اسلام کو روم کی حکومت نے اس وجہ سے شہید کیا تھا کہ افسران انہيں اپنے اقتدار کے لئے ایک سیاسی خطرہ سمجھتے تھے۔ مذہبی تصادموں کے ساتھ معاشی تصادم بھی شامل تھے۔ حکمرانوں نے یہودیوں پر پابندیاں لگا دیں اور ان پر مخصوص ملازمتیں کرنے اور زمین کی ملکیت حاصل کرنے پر پابندی عائد کر دی۔

اسی وقت، چونکہ پرانے زمانے کا چرچ سود خوری (پیسے کی سود سمیت لین دین) کی اجازت نہیں دیتا تھا، یہودیوں نے عیسائی اکثریت کے لئے ساہوکاروں کا کردار ادا کیا۔
فرانس میں روس کی خفیہ پولیس کے ایک اہلکار نےزیون کے بڑوں کے پروٹوکولز تیار کئے۔ پروٹوکولز میں یہ کہا گیا کہ یہودی پوری دنیا پر قبضہ کرنے کی سازش کررہے ہيں۔ ان دستاویزات میں عالمی یہودی لیڈروں کی ایک میٹنگ کے منٹس شام تھے جن میں انہوں نے پوری دنیا پر قابض ہونے کے منصوبوں کو حتمی شکل دی اور ان میں یہ واضح تھا کہ یہودی خفیہ تنظیموں اور ایجنسیوں کے ذریعے سیاسی جماعتوں، معیشت، اخبارات اور عوامی رائے کو کنٹرول کرنا اور اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہتے تھے۔ پروٹوکولز کو دنیا کے مختلف ممالک میں شا‏ئع کیا گیا ہے جن میں ریاستہائے متحدہ امریکہ بھی شامل ہے

9 نومبر 1938 کی رات کو رائخ بھر میں یہودیوں کے خلاف تشدد شروع ہوگیا۔ بظاہر یہ کسی منصوبے کے تحت نہیں ہوا تھا۔ یہ ایک یہودی کے ہاتھوں پیرس میں ایک جرمن افسر کے قتل پر جرمنوں کے غصے کا نتیجہ تھا۔
دو دنوں میں 250 سے زائد یہودی عبادت گاہيں جلائی گئيں، 7000 سے زائد یہودی کاروباروں میں لوٹ مار کی گئی اور اُنہیں تباہ کر دیا گیا، درجنوں یہودیوں کو ماردیا گیا اور یہودی قبرستانوں، ہسپتالوں، اسکولوں اور گھروں کو لوٹا گیا جبکہ پولیس اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں دیکھتی ہی رہیں۔ سڑکوں پر بکھرے ہوئے دکانوں کی کھڑکیوں کے شیشوں اور کرچیوں کی وجہ سے ان پوگروموں کو "کرسٹل ناخٹ" یعنی "ٹوٹے ہوئے شیشوں کی رات" کہا جانے لگا۔

پوگروموں کی بعد کی صبح جرمنی کے تیس ہزار یہودی مردوں کو یہودی ہونے کے "جرم" میں گرفتار کرکے حراستی کیمپوں میں بھیجا گیا جہاں ان میں سے سینکڑوں افراد ختم ہوگئے۔ کچھ یہودی عورتوں کو بھی گرفتار کرکے مقامی قیدخانوں میں بھیج دیا گيا۔ یہودیوں کے کاروباروں کو اس وقت تک دوبارہ کھولنے کی اجازت نہيں دی گئی جب تک کہ ان کا انتظام غیریہودیوں کے ہاتھوں میں نہ دیا گیا ہو۔ یہودیوں پر کرفیو لگا دئے گئے جن کی وجہ سے ان کے گھروں سے نکلنے کے اوقات محدود ہوگئے۔

"ٹوٹے ہوئے شیشوں کی رات" کے بعد جرمن اور آسٹرین یہودی بچوں اور نوجوانوں کی زندگی اور بھی مشکل ہوگئی۔ ان پر پہلے ہی عجائب گھروں، عوامی پارکوں اور تیراکی کے پولوں میں داخلے پر پابندیاں لگا دی گئی تھیں، اب انہيں سرکاری اسکولوں سے بھی خارج کردیا گيا۔ اپنے والدین کی طرح یہودی نوجوانوں کو بھی جرمنی میں مکمل طور پر علحدگی کا سامنا کرنا پڑا۔ مایوسی میں کئی یہودیوں نے خود کشی کرلی۔ زیادہ تر خاندانوں نے بھاگ جانے کی بھی بھرپور کوششیں کیں۔

سترہ ہزار کے قریب پولش یہودیوں کو جرمنی سے نکال دیا گیا یہ سب انکی جرمنی کے خالف سازشوں اور پر تشدد حملوں میں ملوث ہونے کے بعد کیا جا رہا تھا

7 نومبر 1938
پیرس میں جرمن سفارت کار کو گولی مار کر ہلاک کردیا گيا

یہودیوں کی نشان دہی کرکے انہيں سرکاری عہدوں سے برطرف کردیا گيا
ایڈولف ہٹلر کے چانسلر بننے کے دو مہینے بعد، اپریل 1933 میں منظور کئے جانے والے قوانین کے ساتھ انتظامیہ کی تطہیر شروع ہوگئی۔ ان قوانین میں ایک "آرین پیراگراف" شامل تھا جس میں سماج کے مختلف شعبوں سے یہودیوں کو نکال پھینکنے کا انتظام کیا گيا تھا۔ حکومت کے تمام ملازمین کو اپنی "آرین" نسل کے ثبوت میں دستاویزات پیش کرنے کی ضرورت پڑ گئی۔ پہلی دفعہ قانون میں "یہودی"کی تعریف فراہم کی گئی تھی۔ جن ملازمیں کے والدین، یا دادا، دادی، نانا یا نانی یہودی تھے، انہیں اپنے عہدوں سے برطرف کردیا گيا۔
17 اگست 1938
یہودیوں کیلئے "یہودی" نام اپنانا لازمی قرار دے دیا گیا
جرمنی کی حکومت نے ان تمام یہودیوں کے لئے، جو اپنے پہلے ناموں سے فوری طور پر یہودی ظاہر نہيں ہوتے تھے، اپنے پہلے نام کے بعد ایک "یہودی" نام کا اضافہ کرنا ضروری قرار دے دیا۔ مردوں کو "اسرائیل" اور عورتوں کو "سارہ" کا نام دیا گیا۔ اکتوبر میں جرمن حکومت نے یہودیوں کے تمام پاسپورٹ ضبط کرلئے۔ یہودیوں کو جاری کئے جانے والے نئے پاسپورٹ پر J کا ٹھپہ لگایا گيا، جو مالکان کی یہودی شناخت کی گواہی دیتا تھا۔

19 ستمبر 1941
جرمنی میں یہودیوں کی شناخت کے لئے بیج متعارف کروایا گيا
چھ سال کی عمر سے زائد یہودیوں کو تمام اوقات اپنے کپڑوں پر ایک پیلے رنگ کا چھ نقطوں والا ستارہ پہننا ضروری ٹھہرایا گيا، جس پر کالے حرفوں میں "Jude" لکھا گیا تھا (جو جرمن زبان میں "یہودی" کا لفظ تھا)۔ اب جرمنی میں یہودیوں کو دیکھ کر ہی پہچانا جا سکتا تھا۔ اکتوبر میں یہودیوں کی جرمنی سے باقاعدہ جلاوطنی شروع ہوگئی۔ مارچ 1942 سے یہودیوں کے لئے اپنی رہائش گاہوں پر بھی ستارے کی علامت کی نمائش کرنا ضروری ہوگیا۔
یہودیوں کی یہ نسل کشی ہولوکاسٹ کہلاتی ہے۔
ہولوکاسٹ ایک لفظ ہے جسکے استعمال پر پابندی ہے۔ دنیا کے تیرہ ممالک ایسے ہیں جن میں اگر آپ یہ لفظ بولتے یا استعمال کرتے ہیں یا اپنی کسی تحریر میں لکھتے ہیں تو تین سے دس سال کی سزا آپکو ہو سکتی ہے۔
اگر آُپ سوشل میڈیا پر اس لفظ کا استعمال کرتے ہیں تو آُپکا اکاوٗنٹ بلاک کر دیا جائے گا۔
یہودیوں نے اس لفظ کا بڑا ناجائز فائدہ اٹھایا۔ مظلوم بنے اور اس نسل کشی کا اتنا چرچہ کیا کہ ساری دنیا یہاں تک کہ جرمن بھی یہودیوں سے مل کر آج تک آنسو بہاتے ہیں۔
نسل کشی جس وقم کی بھی ہو وہاں گانا سنتے سنتے تو کسی کی موت نہیں آجاتی۔
انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہوتی ہیں چیخ و پکار، بچوں کے سامنے ماں باپ کا قتل اور ماں باپ کے سامنے بچوں کا قتل، بھائیوں کے سامنے بہنوں کی عصمت دری بالکل ویسے جیسے صابرہ اور شتیلا کے کیمپس میں مسلمانوں کی کی گئی۔ مگر مسلمانوں کے خون کو یہودی کیچپ زدہ مزیدار بچے کہتے ہیں جبکہ اپنے بچوں پر آنسو بہاتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ جب یہودی پناہ گزین بنا کر فلسطین میں بھیجے گئے تو پوری دنیا کی جیلوں سے سفاک قاتل اور ذہنی مریض ڈھونڈ ڈھونڈ کر فلسطین بھیجے گئے۔ ان لوگوں میں انسانیت نام کی نہیں تھی۔ خون کو جوس کہتے اور انسانی گوشت کو پورک کا نام دیتے تھے۔ یہ اس حد تک سفاک تھے کہ انہیں ہی اسرائیل کی فوج میں اعلی افسران بنا کر بھیجا گیا۔
انہوں نے جب فلسطین کی آبادی پر ظلم ڈھائے اور اقوام متحدہ ایک منافق کی طرح انہیں گھیر کر انکے گھروں سے نکال کر لے گیا۔ ان مسلمانوں کے گھروں پر یہودیوں کے قبضے ہوگئے جبکہ مہاجرین کیمپس میں کسی اسلامی تہوار کے موقعے پر خوب تیز آواز میں خوشیاں منانے کے آڑ میں گانے چلائے گئے۔
ایک فلسطینی جو کہ فلسطین کے سفارتکار بھی رہے اور آج کل جامعہ اظہر میں پروفیسر ہیں نے بتایا کہ ان گانوں کی آڑ میں مسلمانوں کی چیخیں کسی کو سنائی نہ دیں۔
یہودی مسلمانوں کے خیموں میں گھستے قصائیوں کی طرح مسلمانوں کو ذبح کرتے تھک جاتے پھر شراب پینے جاتے شراب پیتے اپنے اوپر انڈیلتے قہقہے لگاتے اور پھر ناچتے ہوئے مسلمانوں میں گھس جاتے۔
یہودیوں نے اس قتل عام کو ایک تہوار کی طرح منایا۔
صبح ان کیمپس میں صرف انسانی گوشت اور خون تھا۔ لاشوں کا اس طرح مثلہ کیا گیا کہ کسی کی بھی پہچان نہ ہو سکی۔
تمام جسمانی اعضا کو اجتماعی قبر میں دفن کر دیا گیا۔
مرنے والوں کے گھروں باغات اور کھیتوں پر اسرائیلیوں کا قبضہ ہو گیا۔
یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔
یہودیوں کا ایک گروہ ایسا ہے جو آج بھی قدیم توریت کو مانتا ہے۔ اور یہودیوں کے لئے الگ وطن کے قیام کو اللہ کی نافرمانی مانتا ہے۔ انکے مطابق دنیا ختم ہوجائے گی اور دنیا پر اللہ کا عذاب آجائے گا اگر یہودیوں نے اسکی نافرمانی کر کے الگ وطن بنا لیا۔ یہ آپکو اکثر دیوار گریہ پر ماتھا رگڑتے روتے ہوئے ملیں گے۔ مگر یہ لوگ آٹے میں نمک کے برابر ہیں
زیادہ تر جنونی جو Zionist کہلاتے ہیں دنیا کے سامنے مظلوم بن کر ہمدردیاں سمیٹنے والے لوگ ہیں درندے سے زیادہ سفاک ہیں یہ اپنا مقصد کبھی نہیں بھولے تھے۔ آج ہٹلر کو وقت نے صحیح ثابت کر دیا ہے۔
یہودیوں کی جس عالمی سازش کو نازیوں اور روسیوں نے بےنقاب کیا تھا اور جسے روکنے کی کوشش کی تھی یہودیوں نے پیر جماتے ہیں اس پر کامیابی سے کام کرنا شروع کر دیا ہے۔
فرق صرف اتنا ہے کہ اس بار عیسائی دنیا انکے ساتھ ہے۔ کیونکہ وہ یہودیوں کو نہ صرف مظلوم سمجھتے ہیں بلکہ ان کے خلاف بات کرنے کو بہت بڑا گناہ بھی سمجھتے ہیں۔

6 ستمبر_یوم_دفاع_پاکستان 💪

6 ستمبر_یوم_دفاع_پاکستان 💪
یاد دلاتا ہے ان قربانیوں کو جو پاک آرمی, آئی ایس آئی اور  افواج پاکستان اور گمنام مجاہدوں نے اپنی جانوں کے نذرانے دیکر پاکستان کی حفاظت اور سلامتی کے لیے دیں.

ان شہداء کو پوری قوم کی طرف سے سلام پیش کرتا ہوں ۔
اور سلام پیش کرتا ہوں ان ماؤں, بہنوں, بزرگوں, نوجوانوں اور بچوں کو جنھوں نے اپنی جانوں اور عزتوں کی قربانی دیکر یہ پیارا وطن پاکستان حاصل کیا.

6 ستمبر اس عہد کی تجدید کا دن ہے کہ ہم اپنی جانوں کے نزرانے پیش کریں گے اگر ہمارے وطن کی سلامتی اور بقا کا معاملہ ہو ہم ہر حال اور قربانی دیکر اپنے ملک اور اپنی آزادی کو برقرار رکھیں گے.

ہم پہلے مسلم ہیں پھر پاکستانی ہیں, ہم ایک ہیں نہ کوئی پنجابی نہ کوئی پھٹان نہ کوئی سندھی نہ کوئی بلوچی نہ کوئی مہاجر نہ سرائیکی نہ گلگتی ہم مسلمان ہیں اور آپس میں بھائی بھائی ہیں اسلام نے کتنا پیارا رشتہ بنایا ہے.

ہمیں آپس کے اختلافات کو بھلانا ہوگا, ہمیں ایک امت اور سیسہ پلائی دیوار بننا ہوگا جس سے ٹکرا کر ہمارا دشمن نیست و نابود ہوجائے.

پاکستان کی ہر قوم گلدستہ میں پھولوں کی طرح ہے جس میں ہر پھول اپنی جگہ منفرد رنگ خوشبو اور اور ایک الگ روایات کا حامل ہے.

اللہ پاک ہم کو ایک امت بننے اور آپس میں بھائی چارے کو قائم رکھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین یارب العالمین ..

پاکستان زندہ باد 💚
افواج پاکستان ذندہ باد 💚
آئی ایس آئی پائندہ باد 💚
پاکستان پائندہ باد 💚

اے عازمِ طیبہ! میں طلبگارِ دعا ہوں

🍂رو رو کے تُو کرنا مِرے حق میں یہ دعائیں
                     بولے نہ فضول اور رکھے نیچی نگاہیں
🍃کر عرض خدا سے تُو اسے نیک بنانا
                 
      اے عازمِ طیبہ! میں طلبگارِ دعا ہوں

🍂بَہکاتا ہے شیطان تو ہے نفس ستاتا
                    توبہ بھی بہت کرتا ہے پَر بچ نہیں پاتا
 🍃کر حق سے دعا اس کو گناہوں سے بچانا
                       اے عازمِ طیبہ! میں طلبگارِ دعا ہوں

🍂سَکرات کے صدمے مرے بس میں نہیں سہنا
                  کہتا تھا: تو سرکار سے رو رو کے یہ کہنا
🍃جلوہ بھی دکھانا مجھے کلمہ بھی پڑھانا
                       اے عازمِ طیبہ! میں طلبگارِ دعا ہوں

🍂کہتا تھا بُرے خاتمے کا خوف بڑا ہے
                     دیکھا ہے اسے بار ہا یہ رو بھی پڑا ہے
🍃یارب اسے ایمان پہ دُنیا سے اُٹھانا
                      اے عازمِ طیبہ! میں طلبگارِ دعا ہوں

🍂نادم ہے مزید اِس کو تُو شرمندہ نہ کرنا
         بے پوچھے ہی دے بخش قیامت میں نہ دھرنا
🍃کر عرض خدا سے اِسے جنت میں بسانا
                      اے عازمِ طیبہ! میں طلبگارِ دعا ہوں

🍂جب تک ہو مدینے میں مُیسر تجھے رہنا
                   رو رو کے سلام اُن سے مِرا روز تو کہنا
🍃خیرات شفاعت کی تَبَرُّک میں لے آنا
                      اے عازمِ طیبہ! میں طلبگارِ دعا ہوں

🌋آمیــــــــــن ثم آمیـــــــن يا رب العالمـــــــــین
    💞صَلَّی اللّٰه عَلٰی حَبِیْبِهٖ سیّدنا مُحَمَّــدٍ وَّآلِـهٖ وسلم