Wednesday, September 5, 2018

ہٹلر یہودیوں سے نفرت کیوں کرتا تھا?


ہٹلر یہودیوں سے نفرت کیوں کرتا تھا
اور ان کو جرمنی سے کیوں نکالا اس نے ؟
یہ وہ سوال ہیں جس کا جواب حاصل کرنے کے لئے کئی کتابیں لکھی گئیں۔ مگر سب سے درست بات یہ ہے کہ ہٹلر جرمن قوم کو دنیا کی بہترین قوم سمجھتا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ صرف جرمن قوم ہی کو دنیا پر حکمرانی کا حق حاصل ہے اور جرمنی کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ ملک سے تمام غدار ختم کر دئے جائیں۔یہ انسان کی ترقی میں رکاوٹ ہیں۔ پہلی جنگ عظیم میں جرمنی میں رہنے والے یہودیوں نے درپردہ جرمن مفاد کے خلاف برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کا ساتھ دیا تھا۔ جرمنی میں رہتے ہوئے جرمنی کے خلاف کام کرنا ہٹلر کے نزدیک ناقابل معافی جرم تھا۔ وہ ان کی پرانی تاریخ سے بھی واقف تھا کہ کیسے انھوں نے اللہ کے پیغمبروں سے بدعہدی کی اور ایک عیسائی ہونے کے ناتے وہ اس سے بھی واقف تھا کہ یہ یہودی علماء ہی تھے جنھوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پھانسی دلوانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ اس لیے وہ انھیں ایک لعنت زدہ نسل سمجھتا تھا اور دنیا کو یہودیوں سے پاک کر دینا چاہتا تھا۔

یہودی، عیسائیوں کی طرح حضرت عیسی علیہ اسلام کو خدا کا بیٹا نہيں مانتے ہيں اور کئی عیسائی حضرت عیسی علیہ اسلام کی خدائیت کو ماننے کے اس انکار کو تکبر کی نشانی سمجھتے تھے۔ کئی صدیوں تک چرچ نے یہ سکھایا کہ حضرت عیسی علیہ اسلام کی موت یہودیوں کی وجہ سے ہوئی جبکہ آج کے مورخین اور چرچیہ سکھاتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ اسلام کو روم کی حکومت نے اس وجہ سے شہید کیا تھا کہ افسران انہيں اپنے اقتدار کے لئے ایک سیاسی خطرہ سمجھتے تھے۔ مذہبی تصادموں کے ساتھ معاشی تصادم بھی شامل تھے۔ حکمرانوں نے یہودیوں پر پابندیاں لگا دیں اور ان پر مخصوص ملازمتیں کرنے اور زمین کی ملکیت حاصل کرنے پر پابندی عائد کر دی۔

اسی وقت، چونکہ پرانے زمانے کا چرچ سود خوری (پیسے کی سود سمیت لین دین) کی اجازت نہیں دیتا تھا، یہودیوں نے عیسائی اکثریت کے لئے ساہوکاروں کا کردار ادا کیا۔
فرانس میں روس کی خفیہ پولیس کے ایک اہلکار نےزیون کے بڑوں کے پروٹوکولز تیار کئے۔ پروٹوکولز میں یہ کہا گیا کہ یہودی پوری دنیا پر قبضہ کرنے کی سازش کررہے ہيں۔ ان دستاویزات میں عالمی یہودی لیڈروں کی ایک میٹنگ کے منٹس شام تھے جن میں انہوں نے پوری دنیا پر قابض ہونے کے منصوبوں کو حتمی شکل دی اور ان میں یہ واضح تھا کہ یہودی خفیہ تنظیموں اور ایجنسیوں کے ذریعے سیاسی جماعتوں، معیشت، اخبارات اور عوامی رائے کو کنٹرول کرنا اور اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہتے تھے۔ پروٹوکولز کو دنیا کے مختلف ممالک میں شا‏ئع کیا گیا ہے جن میں ریاستہائے متحدہ امریکہ بھی شامل ہے

9 نومبر 1938 کی رات کو رائخ بھر میں یہودیوں کے خلاف تشدد شروع ہوگیا۔ بظاہر یہ کسی منصوبے کے تحت نہیں ہوا تھا۔ یہ ایک یہودی کے ہاتھوں پیرس میں ایک جرمن افسر کے قتل پر جرمنوں کے غصے کا نتیجہ تھا۔
دو دنوں میں 250 سے زائد یہودی عبادت گاہيں جلائی گئيں، 7000 سے زائد یہودی کاروباروں میں لوٹ مار کی گئی اور اُنہیں تباہ کر دیا گیا، درجنوں یہودیوں کو ماردیا گیا اور یہودی قبرستانوں، ہسپتالوں، اسکولوں اور گھروں کو لوٹا گیا جبکہ پولیس اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں دیکھتی ہی رہیں۔ سڑکوں پر بکھرے ہوئے دکانوں کی کھڑکیوں کے شیشوں اور کرچیوں کی وجہ سے ان پوگروموں کو "کرسٹل ناخٹ" یعنی "ٹوٹے ہوئے شیشوں کی رات" کہا جانے لگا۔

پوگروموں کی بعد کی صبح جرمنی کے تیس ہزار یہودی مردوں کو یہودی ہونے کے "جرم" میں گرفتار کرکے حراستی کیمپوں میں بھیجا گیا جہاں ان میں سے سینکڑوں افراد ختم ہوگئے۔ کچھ یہودی عورتوں کو بھی گرفتار کرکے مقامی قیدخانوں میں بھیج دیا گيا۔ یہودیوں کے کاروباروں کو اس وقت تک دوبارہ کھولنے کی اجازت نہيں دی گئی جب تک کہ ان کا انتظام غیریہودیوں کے ہاتھوں میں نہ دیا گیا ہو۔ یہودیوں پر کرفیو لگا دئے گئے جن کی وجہ سے ان کے گھروں سے نکلنے کے اوقات محدود ہوگئے۔

"ٹوٹے ہوئے شیشوں کی رات" کے بعد جرمن اور آسٹرین یہودی بچوں اور نوجوانوں کی زندگی اور بھی مشکل ہوگئی۔ ان پر پہلے ہی عجائب گھروں، عوامی پارکوں اور تیراکی کے پولوں میں داخلے پر پابندیاں لگا دی گئی تھیں، اب انہيں سرکاری اسکولوں سے بھی خارج کردیا گيا۔ اپنے والدین کی طرح یہودی نوجوانوں کو بھی جرمنی میں مکمل طور پر علحدگی کا سامنا کرنا پڑا۔ مایوسی میں کئی یہودیوں نے خود کشی کرلی۔ زیادہ تر خاندانوں نے بھاگ جانے کی بھی بھرپور کوششیں کیں۔

سترہ ہزار کے قریب پولش یہودیوں کو جرمنی سے نکال دیا گیا یہ سب انکی جرمنی کے خالف سازشوں اور پر تشدد حملوں میں ملوث ہونے کے بعد کیا جا رہا تھا

7 نومبر 1938
پیرس میں جرمن سفارت کار کو گولی مار کر ہلاک کردیا گيا

یہودیوں کی نشان دہی کرکے انہيں سرکاری عہدوں سے برطرف کردیا گيا
ایڈولف ہٹلر کے چانسلر بننے کے دو مہینے بعد، اپریل 1933 میں منظور کئے جانے والے قوانین کے ساتھ انتظامیہ کی تطہیر شروع ہوگئی۔ ان قوانین میں ایک "آرین پیراگراف" شامل تھا جس میں سماج کے مختلف شعبوں سے یہودیوں کو نکال پھینکنے کا انتظام کیا گيا تھا۔ حکومت کے تمام ملازمین کو اپنی "آرین" نسل کے ثبوت میں دستاویزات پیش کرنے کی ضرورت پڑ گئی۔ پہلی دفعہ قانون میں "یہودی"کی تعریف فراہم کی گئی تھی۔ جن ملازمیں کے والدین، یا دادا، دادی، نانا یا نانی یہودی تھے، انہیں اپنے عہدوں سے برطرف کردیا گيا۔
17 اگست 1938
یہودیوں کیلئے "یہودی" نام اپنانا لازمی قرار دے دیا گیا
جرمنی کی حکومت نے ان تمام یہودیوں کے لئے، جو اپنے پہلے ناموں سے فوری طور پر یہودی ظاہر نہيں ہوتے تھے، اپنے پہلے نام کے بعد ایک "یہودی" نام کا اضافہ کرنا ضروری قرار دے دیا۔ مردوں کو "اسرائیل" اور عورتوں کو "سارہ" کا نام دیا گیا۔ اکتوبر میں جرمن حکومت نے یہودیوں کے تمام پاسپورٹ ضبط کرلئے۔ یہودیوں کو جاری کئے جانے والے نئے پاسپورٹ پر J کا ٹھپہ لگایا گيا، جو مالکان کی یہودی شناخت کی گواہی دیتا تھا۔

19 ستمبر 1941
جرمنی میں یہودیوں کی شناخت کے لئے بیج متعارف کروایا گيا
چھ سال کی عمر سے زائد یہودیوں کو تمام اوقات اپنے کپڑوں پر ایک پیلے رنگ کا چھ نقطوں والا ستارہ پہننا ضروری ٹھہرایا گيا، جس پر کالے حرفوں میں "Jude" لکھا گیا تھا (جو جرمن زبان میں "یہودی" کا لفظ تھا)۔ اب جرمنی میں یہودیوں کو دیکھ کر ہی پہچانا جا سکتا تھا۔ اکتوبر میں یہودیوں کی جرمنی سے باقاعدہ جلاوطنی شروع ہوگئی۔ مارچ 1942 سے یہودیوں کے لئے اپنی رہائش گاہوں پر بھی ستارے کی علامت کی نمائش کرنا ضروری ہوگیا۔
یہودیوں کی یہ نسل کشی ہولوکاسٹ کہلاتی ہے۔
ہولوکاسٹ ایک لفظ ہے جسکے استعمال پر پابندی ہے۔ دنیا کے تیرہ ممالک ایسے ہیں جن میں اگر آپ یہ لفظ بولتے یا استعمال کرتے ہیں یا اپنی کسی تحریر میں لکھتے ہیں تو تین سے دس سال کی سزا آپکو ہو سکتی ہے۔
اگر آُپ سوشل میڈیا پر اس لفظ کا استعمال کرتے ہیں تو آُپکا اکاوٗنٹ بلاک کر دیا جائے گا۔
یہودیوں نے اس لفظ کا بڑا ناجائز فائدہ اٹھایا۔ مظلوم بنے اور اس نسل کشی کا اتنا چرچہ کیا کہ ساری دنیا یہاں تک کہ جرمن بھی یہودیوں سے مل کر آج تک آنسو بہاتے ہیں۔
نسل کشی جس وقم کی بھی ہو وہاں گانا سنتے سنتے تو کسی کی موت نہیں آجاتی۔
انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہوتی ہیں چیخ و پکار، بچوں کے سامنے ماں باپ کا قتل اور ماں باپ کے سامنے بچوں کا قتل، بھائیوں کے سامنے بہنوں کی عصمت دری بالکل ویسے جیسے صابرہ اور شتیلا کے کیمپس میں مسلمانوں کی کی گئی۔ مگر مسلمانوں کے خون کو یہودی کیچپ زدہ مزیدار بچے کہتے ہیں جبکہ اپنے بچوں پر آنسو بہاتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ جب یہودی پناہ گزین بنا کر فلسطین میں بھیجے گئے تو پوری دنیا کی جیلوں سے سفاک قاتل اور ذہنی مریض ڈھونڈ ڈھونڈ کر فلسطین بھیجے گئے۔ ان لوگوں میں انسانیت نام کی نہیں تھی۔ خون کو جوس کہتے اور انسانی گوشت کو پورک کا نام دیتے تھے۔ یہ اس حد تک سفاک تھے کہ انہیں ہی اسرائیل کی فوج میں اعلی افسران بنا کر بھیجا گیا۔
انہوں نے جب فلسطین کی آبادی پر ظلم ڈھائے اور اقوام متحدہ ایک منافق کی طرح انہیں گھیر کر انکے گھروں سے نکال کر لے گیا۔ ان مسلمانوں کے گھروں پر یہودیوں کے قبضے ہوگئے جبکہ مہاجرین کیمپس میں کسی اسلامی تہوار کے موقعے پر خوب تیز آواز میں خوشیاں منانے کے آڑ میں گانے چلائے گئے۔
ایک فلسطینی جو کہ فلسطین کے سفارتکار بھی رہے اور آج کل جامعہ اظہر میں پروفیسر ہیں نے بتایا کہ ان گانوں کی آڑ میں مسلمانوں کی چیخیں کسی کو سنائی نہ دیں۔
یہودی مسلمانوں کے خیموں میں گھستے قصائیوں کی طرح مسلمانوں کو ذبح کرتے تھک جاتے پھر شراب پینے جاتے شراب پیتے اپنے اوپر انڈیلتے قہقہے لگاتے اور پھر ناچتے ہوئے مسلمانوں میں گھس جاتے۔
یہودیوں نے اس قتل عام کو ایک تہوار کی طرح منایا۔
صبح ان کیمپس میں صرف انسانی گوشت اور خون تھا۔ لاشوں کا اس طرح مثلہ کیا گیا کہ کسی کی بھی پہچان نہ ہو سکی۔
تمام جسمانی اعضا کو اجتماعی قبر میں دفن کر دیا گیا۔
مرنے والوں کے گھروں باغات اور کھیتوں پر اسرائیلیوں کا قبضہ ہو گیا۔
یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔
یہودیوں کا ایک گروہ ایسا ہے جو آج بھی قدیم توریت کو مانتا ہے۔ اور یہودیوں کے لئے الگ وطن کے قیام کو اللہ کی نافرمانی مانتا ہے۔ انکے مطابق دنیا ختم ہوجائے گی اور دنیا پر اللہ کا عذاب آجائے گا اگر یہودیوں نے اسکی نافرمانی کر کے الگ وطن بنا لیا۔ یہ آپکو اکثر دیوار گریہ پر ماتھا رگڑتے روتے ہوئے ملیں گے۔ مگر یہ لوگ آٹے میں نمک کے برابر ہیں
زیادہ تر جنونی جو Zionist کہلاتے ہیں دنیا کے سامنے مظلوم بن کر ہمدردیاں سمیٹنے والے لوگ ہیں درندے سے زیادہ سفاک ہیں یہ اپنا مقصد کبھی نہیں بھولے تھے۔ آج ہٹلر کو وقت نے صحیح ثابت کر دیا ہے۔
یہودیوں کی جس عالمی سازش کو نازیوں اور روسیوں نے بےنقاب کیا تھا اور جسے روکنے کی کوشش کی تھی یہودیوں نے پیر جماتے ہیں اس پر کامیابی سے کام کرنا شروع کر دیا ہے۔
فرق صرف اتنا ہے کہ اس بار عیسائی دنیا انکے ساتھ ہے۔ کیونکہ وہ یہودیوں کو نہ صرف مظلوم سمجھتے ہیں بلکہ ان کے خلاف بات کرنے کو بہت بڑا گناہ بھی سمجھتے ہیں۔

No comments:

Post a Comment