بکری کان جھاڑتی اُٹھ کھڑی ہوئی!
مشہورصحابیِ رسول حَضْرتِ سَیِّدُنا جَابِررَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ بَیان کرتے ہیں کہ (غَزوَۂ خَنْدق کے موقع پر) خَنْدق کھودتے وَقْت اچانک ایک ایسی چَٹان نُمودار ہو گئی جو کسی سے نہ ٹُوٹتی تھی۔ جب ہم نے بارگاہِ رِسَالَت صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں یہ ماجرا عَرْض کیا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ اُٹھے، تین دن کا فاقہ تھا اور پیٹ مُبارَک پر پتّھر بندھاہوا تھا،آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنے دَسْتِ مُبارَک سے پھاؤڑا مارا تو وہ چَٹان ریت کے بُھربُھرے ٹِیلے کی طَرح بِکھر گئی۔
(بخاری،کتاب المغازی،باب غزوۃ الخندق، الحدیث :۴۱۰۱، ۳/۵۱)
ایک اور رِوَایَت میں یوں بھی آیا ہے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اُس چَٹان پر تین مَرتبہ پھاؤڑا مارا، ہر ضَرب پر اُس میں سے ایک روشنی نکلتی تھی اور اس روشنی میں آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے شام و اِیران اور یَمَن کے شہروں کو دیکھ لیا اور اِن تینوں مُلکوں کے فَتْح ہونے کی صَحَابَۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کوبِشَارَت دی۔
(المواھب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی،باب غزوۃ الخندق...الخ، ۳/۳۱)
حَضْرت سَیِّدُناجَابِر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فرماتے ہیں کہ مسلسل فاقوں کی وجہ سے نبیِ اکرم، رسولِ محتشم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے شکم ِاَقْدَس (پیٹ مبارک)پر پتّھر بندھا ہوا دیکھ کر میرا دل بھر آیا، میں حُضُورصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے اِجازَت لے کر اپنے گھر آیا اور اپنی اَہْلِیَّہ سے کہا کہ میں نے نبیِ اَکْرَم، نُورِ مُجَسّم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اِس قَدر شدید بُھوک کی حالت میں دیکھا ہے کہ مجھ میں صَبْر کی تاب نہیں رہی۔ کیا گھر میں کُچھ کھانا ہے؟اُنہوں نے کہا کہ گھر میں ایک صَاع (تقریباً چارکلو) جَو کے سِوا کُچھ بھی نہیں ،میں نے کہا کہ تُم جلدی سے اُس جَو کو پیس کر گُوندھ لو ،پھر میں نے اپنے گھر کا پَلا ہوا ایک بکری کا بچّہ ذَبْح کرکے اس کی بوٹیاں بنا ئیں اور زَوجَہ سے کہا کہ جَلد اَزْ جَلد سالن اور روٹیاں تَیّار کر لو،میں حُضُور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بُلا کرلاتا ہوں،چلتے وَقْت زَوجَہ نے کہا:دیکھو! آقا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے عِلاوہ صِرْف چند ہی اَصْحاب کو ساتھ لانا، کیونکہ کھانا کم ہے، زیادہ افراد کو لا کر مجھے رُسْوا مت کر دینا۔
حَضْرت سیدناجابررَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ نے خَنْدق پرآ کر آہستگی سے عَرْض کیا:یَارَسُوْلَ اللہ!صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ایک صاع آٹے کی روٹیاں اور ایک بکری کے بچّے کا گوشت میں نے گھر میں تیار کروایا ہے ،لہٰذا آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ چند لوگوں کے ساتھ چل کر تَناوُل فرما لیں،یہ سُن کر حُضُور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ اے خَنْدق والو!جابر نے دَعْوتِ طَعام (کھانے کی دعوت)دی ہے، لہٰذا سب لوگ ان کے گھر چل کر کھانا کھا لیں، پھر مُجھ سے فرمایا کہ جب تک میں نہ آجاؤں، روٹیاں مت پکوانا، چُنانچہ جب حُضُورصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ تَشْریف لائے تو گوندھے ہوئے آٹے میں اپنا لُعابِ دَہْن (تھوک مبارک)ڈال کر بَرَکت کی دُعا فرمائی اورگوشت کی ہانڈی میں بھی اپنا لُعابِ دَہْن ڈال دیا۔ پھر روٹی پکانے کا حکم دیا اور فرمایا کہ ہانڈی چُولھے سے نہ اُتاری جائے ۔جب روٹیاں پک گئیں تو حَضْرتِ سَیِّدُناجابر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کی اَہْلِیَّہ نے ہانڈی سے گوشت نکال نکال کر دینا شُروع کیا ،ایک ہزار صَحَابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے آسُودہ ہو کر کھانا کھا لیا مگر گُوندھا ہواآٹا جتنا پہلے تھا اُتنا ہی رہااور ہانڈی چُولھے پر بَدَسْتُور جوش مارتی رہی۔
(بخاری،کتاب المغا زی، باب غزوۃ الخندق. ..الخ ، الحدیث:۴۱۰۱،۴۱۰۲،۳/۵۱ ملخصاً)
حضرت سیدناجابر رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں کہ پھر نبیِ کریم، رسولِ عظیم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ایک برتن کے بیچ میں کھائی ہوئی ہڈیوں کو جمع کیا اور ان پر اپنا ہاتھ مبارَک رکھا اور کچھ کلام پڑھا جِسے میں نے نہیں سُنا۔ ابھی جس بکری کا گوشت کھایا تھا وُہی بکری یکایک کان جھاڑتے ہوئے اُٹھ کھڑی ہوئی، آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مجھ سے فرمایا:اپنی بکری لے جاؤ! میں بکری اپنی زوجہ محترمہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کے پاس لے آیا ۔وہ (حیرت سے ) بولیں:یہ کیا؟ میں نے کہا:وَاللہ! یہ ہماری وُہی بکری ہے جس کو ہم نے ذَبح کیا تھا۔ دُعائے مصطَفٰے صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے اللہ پاک نے اسے زندہ کر دیا ہے! یہ سُن کر ان کی زوجہ محترمہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا بے ساختہ پکار اُٹھیں ، میں گواہی دیتی ہوں کہ بے شک وہ اللہ پاک کے رسول صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہیں۔
(الخصائصُ الکبرٰی، ۲/ ۱۱۲)

No comments:
Post a Comment