Friday, November 9, 2018

ماہ ربیع النور

یکم ربيع النور 1440
 عبودیت کا مکمل، مستقل،شعوری، باطنی اور ظاہری اظہار:(  پہلی  قسط)
اللہ تبارک وتعالی کا فرمان عالی شان ہے ، قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ - اے محبوب! تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا
آپ اللہ کی محبوبیت اور مغفرت کے طلبگار ہوں تو اللہ کا اذن عام ہے کہ آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں آپ کو مطلوب و مقصود ضرور عطا ہوجائے گا
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے محبت کا پیمانہ مقرر کردیا
عن أنس بن مالكٍ رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ((لا يؤمن أحدكم حتى أكون أحبَّ إليه من ولده ووالده والناس أجمعين ، یعنی یاد رکھو جب تک تمہاری مجھ سے  محبت اپنی اولاد، اپنے والد اور تمام لوگوں سے زیادہ نہ ہو اس وقت تک تمہارا ایمان کا دعوی ہو ہی نہیں سکتا ( دوسری احادیث میں مال کا بھی ذکر ہے ))

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پسندیدہ ترین عمل نماز تھی جو
عبودیت کا مکمل، مستقل،شعوری، باطنی اور ظاہری اظہار ہے

کتنے خوش نصیب ہیں جو اپنی دعاؤن میں حسن خاتمہ کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں اور عملی طور پر حسن اطاعت پر ہمہ تن گامزن رہتے ہیں، فرائض کی حس ادائیگی، اللہ کی حسن عطا کا لوازمہ ہے
"نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ، حبب إلی من دنیاکم: النساء والطیب، وجعلت قرۃ عینی فی الصلاۃ: (النسائی عشرۃ النساء، حدیث رقم:3391)
"مجھے دنیا کی چیزوں میں عورتیں اور خوشبو بہت محبوب ہیں، اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں کردی گئی ہے۔"
نماز تحفہ معراج ہے، خالق کائنات جیسی عظیم  ہستی نے اپنے اخص الخواص، صاحب عظمت،محبوب،  صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ تحفہ عطا فرمایا، عظمت ربانی اور عظمت رسالت کے تناظر میں یہ تحفہ بھی اتنا ہی عظیم ہے
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان عالیشان کہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں کردی گئ ہے، قابل غور وتدبر ہے
نماز تکبیر ، تسبیح، تحمید، تلاوت، دعا، خشوع، خضوع، رجوع الی اللہ ،  شکر ، صبر، اطاعت ، بندگی اور عبودیت کا اعلی ترین شاہکار ہے
فرمان باری تعالی ہے “ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ - بیشک اللہ پسند کرتا ہے بہت توبہ کرنے والوں کو اور پسند رکھتا ہے ستھروں کو
" وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ - اور ستھرے اللہ کو پیارے ہیں
طہارت شرط نماز ہے، وضو میں مشغول ہوتے ہی آپ اللہ کی طرف سلوک محبوبیت کے زمرہ میں شامل ہوجاتے ہیں
نماز کی ادائیگی، اطاعت کے اکثر لوازمات سے بھر پور ہے
اللہ نے حکم دیا " وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا - اور اس کی بڑائی بولنے کو تکبیر کہو " آپ نماز میں بار بار اللہ اکبر کی صدا لگاتے ہیں
( جاری ہے )

No comments:

Post a Comment