سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ اپنے اسلام لانے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
"آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ﷺ پر وحی آنے سے بھی تین سال پہلے سے میں اللہ تعالیٰ کے لئے نماز پڑھا کرتا تھا اور جس طرف اللہ تعالیٰ میرا رخ کردیتے،میں اسی طرف چل پڑتا تھا ـ اسی زمانہ میں ہمیں معلوم ہوا کہ مکہ معظمہ میں ایک شخص ظاہر ہوا ہے،اس کا دعویٰ ہے کہ وہ نبی ہے ـ یہ سن کر میں نے اپنے بھائی انیس سے کہا :
" تم اس شخص کے پاس جاؤ ،اس سے بات چیت کرو اور آکر مجھے اس بات چیت کے بارے میں بتاؤ "ـ
چنانچہ انیس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ﷺ سے ملاقات کی،جب وہ واپس آئے تو میں نے ان سے آپ ﷺ کے بارے میں پوچھاـ انہوں نے بتایا :
" اللہ کی قسم ! میں ایک ایسے شخص کے پاس سے آ رہا ہوں جو اچھائیوں کا حکم دیتا ہے اور برائیوں سے روکتا ہے اور ایک روایت میں ہے کہ میں نے تمھیں اسی شخص کے دین پر پایا ہے ـ اس کا دعویٰ ہے کہ اسے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے ـ میں نے اس شخص کو دیکھا کہ وہ نیکی اور بلند اخلاق کی تعلیم دیتا ہےـ"
میں نے پوچھا :
"لوگ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟"
انیس نے بتایا:
"لوگ اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ کاہن اور جادوگر ہے مگر اللٰہ کی قسم وہ شخص سچا ہے اور وہ لوگ جھوٹے ہیں ۔"
یہ تمام باتیں سن کر میں نے کہا:
"بس کافی ہے، میں خود جاکر ان سے ملتا ہوں ۔"
انیس نے فوراًکہا:
"ضرور جاکر ملو، مگر مکہ والوں سے بچ کر رہنا۔"
چنانچہ میں نے اپنے موزے پہنے، لاٹھی ہاتھ میں لی اور روانہ ہوگیا، جب میں مکہ پہنچا تو میں نے لوگوں کے سامنے ایسا ظاہر کیا، جیسے میں اس شخص کو جانتا ہی نہیں اور اس کے بارے میں پوچھنا بھی پسند نہیں کرتا - میں ایک ماہ تک مسجد حرام میں ٹھہرا رہا، میرے پاس سوائے زم زم کے کھانے کو کچھ نہیں تھا - اس کے باوجود میں زم زم کی برکت سے موٹا ہوگیا - میرے پیٹ کی سلوٹیں ختم ہوگئیں - مجھے بھوک کا بالکل احساس نہیں ہوتا تھا - ایک رات جب حرم میں کوئی طواف کرنے والا نہیں تھا، اللّٰہ کے رسول ایک ساتھی(ابوبکر رضی اللّٰہ عنہ) کے ساتھ وہاں آئے اور بیت اللٰہ کا طواف کرنے لگے - اس کے بعد آپ نے اور آپ کے ساتھی نے نماز پڑھی - جب آپ نماز سے فارغ ہوگئے تو میں آپ کے نزدیک چلا گیا اور بولا:
"السلام علیک یا رسول اللّٰہ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللّٰہ تعالٰی کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللٰہ علیہ وسلم اللّٰہ کے رسول ہیں -"
میں نے محسوس کیا، حضورنبی کریم صلی اللٰہ علیہ وسلم کے چہرے پر خوشی کے آثار نمودار ہوگئے - پھر آپ نے مجھ سے پوچھا:
"تم کون ہو -"
میں نے جواب میں کہا:
’’جی میں غفار قبیلے کا ہوں ‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:
’’یہاں کب سے آئے ہوئے ہو؟‘‘
میں نے عرض کیا:
تیس دن اور تیس راتوں سے یہاں ہوں ‘‘۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:
تمہیں کھانا کون کھلاتا ہے؟‘‘
میں نے عرض کی:
میرے پاس سوائے زم زم کے کوئی کھانا نہیں ،اس کو پی پی کر میں موٹا ہو گیا ہوں ، یہاں تک کہ میرے پیٹ کی سلوٹیں تک ختم ہو گئی ہیں اور مجھے بھوک کا بالکل احساس نہیں ہوتا‘‘۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا‘
مبارک ہو ،یہ زم زم بہترین کھانا اور ہر بیماری کی دوا ہے‘‘۔
زم زم کے بارے میں احادیث میں آتا ہے، اگر تم آب زمزم کو اس نیت سے پیو کہ اللہ تعالی تمہیں اس کے ذریعے بیماریوں سے شفا عطا فرمائے تواللہ تعالی شفا عطا فرماتا ہے اوراگر اس نیت سے پیا جائے کہ اس کے ذریعے پیٹ بھر جائے اور بھوک نہ رہے تو آدمی شکم سیر ہو جاتا ہے اور اگر اس نیت سے پیا جائے کہ پیاس کا اثر باقی نہ رہے تو پیاس ختم ہو جاتی ہے۔اس کے ذریعے اللہ تعالی نے اسماعیل علیہ السلام کو سیراب کیا تھا۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ جی بھر کر زم زم کا پانی پینا اپنے آپ کو نفاق سے دور کرنا ہے۔ اور ایک حدیث میں ہے کہ ہم میں اور منافقوں میں یہ فرق ہے کہ وہ لوگ زم زم سے سیرابی حاصل نہیں کرتے۔
ہاں تو بات ہو رہی تھی حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کی ۔۔۔کہا جاتا ہے ،ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ اسلام میں پیلے آدمی ہیں جنہوں نے آپ ﷺ کو اسلامی سلام کے الفاظ کے مطابق سلام کیا ۔ ان سے پہلے کسی نے آپ ﷺ کو ان الفاظ میں سلام نہیں کیا تھا۔
اب ابو ذر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ سے اس بات پر بیعت کی کہ اللہ تعالی کے معاملے میں وہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں گھبرائیں گے اور یہ کہ ہمیشہ حق اور سچی بات کہیں گے چاہے حق سننے والے کے لئے کتنا ہی کڑوا کیوں نہ ہو۔
یہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ملک شام کے علاقے میں ہجرت کر گئے تھے۔پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں انہیں شام سے واپس بلا لیا گیا اور پھر یہ ربذہ کے مقام پر آ کر رہنے لگے تھے۔ ربذہ کے مقام پر ہی ان کی وفات ہوئی تھی۔
ان کے ایمان لانے کے بارے میں ایک روایت یہ ہے کہ جب یہ مکہ معظمہ آئے تو ان کی ملاقات حضرت علیؓ سے ہوئی تھی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہی ان کو آپ ﷺ سے ملوایا تھا۔
ابو ذر ضی اللہ عنہ کہتے ہیں :
بیعت کرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ساتھ لے گئے۔ ایک جگہ حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ نے ایک دروازہ کھولا ،ہم اندر داخل ہوئے،ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ہمیں انگور پیش کیے۔ اس طرح یہ پہلا کھانا تھا جو میں نے مکہ میں آنے کے بعد کھایا۔‘‘
اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:
اے ابو ذررضی اللہ عنہ اس معاملے کو ابھی چھپائے رکھنا، اب تو تم اپنی قوم میں واپس جاؤ اور انہیں بتاؤ تاکہ وہ لوگ میرے پاس آ سکیں ، پھر جب تمہیں معلوم ہو کہ ہم نے خود اپنے معاملہ کا کھلم کھلا اعلان کر دیا ہے تو اس وقت تم ہمارے پاس آ جانا۔‘‘
آپ ﷺ کی بات سن کر حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ بولے:
’’قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو سچائی دے کر بھیجا، میں ان لوگوں کے درمیان کھڑے ہو کر پکار پکار کر اعلان کروں گا‘‘۔
حضرت ابو ذررضی اللہ عنہ کہتے ہیں ’’میں ایمان لانے والے دیہاتی لوگوں میں سے پانچواں آدمی تھا‘‘۔غرض جس وقت قریش کے لوگ حرم میں جمع ہوئے، انہوں نے بلند آواز میں چلا کر کہا:
میں گواہی دیتا ہوں سوالے اللہ کے کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کے رسول ہیں ‘‘۔
بلند آواز میں یہ اعلان سن کر قریشیوں نے کہا:
اس بددین کو پکڑ لو‘‘۔
انہوں نے حضرت ابو ذررضی اللہ عنہ کے پکڑ لیا اور بے انتہا مارا۔ایک روایت میں الفاظ یہ ہیں ،وہ لوگ ان پر چڑھ دوڑے۔ پوری قوت سے انہیں مارے لگے۔ یہاں تک کہ وہ بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ اس وقت حضرت عباس رضی اللہ عنہ درمیان میں آگئے۔ وہ ان پر جھک گئے اور قریشیوں سے کہا:
تمہارا برا ہو ! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ یہ شخص قبیلہ غفار سے ہے ان کا علاقہ تمہاری تجارت کا راستہ ہے۔‘‘
ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ قبیلہ غفار کے لوگ تمہارا راستہ بند کر دیں گے اس پر ان لوگوں نے انہیں چھوڑ دیا۔
ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس کے بعد میں زم زم کے کنویں کے پاس آیا اپنے بدن سے خون دھویا اگلے دن میں نے پھر اعلان کیا:
’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔‘‘
انہوں نے پھر مجھے مارا ۔ اس روز بھی حضرت عباس رضی اللہ عنہ ہی نے مجھے ان سے چھڑایا۔ پھر میں وہاں سے واپس ہوا اور اپنے بھائی انیس کے پاس آیا۔
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ اپنے اسلام لانے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
"آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ﷺ پر وحی آنے سے بھی تین سال پہلے سے میں اللہ تعالیٰ کے لئے نماز پڑھا کرتا تھا اور جس طرف اللہ تعالیٰ میرا رخ کردیتے،میں اسی طرف چل پڑتا تھا ـ اسی زمانہ میں ہمیں معلوم ہوا کہ مکہ معظمہ میں ایک شخص ظاہر ہوا ہے،اس کا دعویٰ ہے کہ وہ نبی ہے ـ یہ سن کر میں نے اپنے بھائی انیس سے کہا :
" تم اس شخص کے پاس جاؤ ،اس سے بات چیت کرو اور آکر مجھے اس بات چیت کے بارے میں بتاؤ "ـ
چنانچہ انیس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ﷺ سے ملاقات کی،جب وہ واپس آئے تو میں نے ان سے آپ ﷺ کے بارے میں پوچھاـ انہوں نے بتایا :
" اللہ کی قسم ! میں ایک ایسے شخص کے پاس سے آ رہا ہوں جو اچھائیوں کا حکم دیتا ہے اور برائیوں سے روکتا ہے اور ایک روایت میں ہے کہ میں نے تمھیں اسی شخص کے دین پر پایا ہے ـ اس کا دعویٰ ہے کہ اسے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے ـ میں نے اس شخص کو دیکھا کہ وہ نیکی اور بلند اخلاق کی تعلیم دیتا ہےـ"
میں نے پوچھا :
"لوگ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟"
انیس نے بتایا:
"لوگ اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ کاہن اور جادوگر ہے مگر اللٰہ کی قسم وہ شخص سچا ہے اور وہ لوگ جھوٹے ہیں ۔"
یہ تمام باتیں سن کر میں نے کہا:
"بس کافی ہے، میں خود جاکر ان سے ملتا ہوں ۔"
انیس نے فوراًکہا:
"ضرور جاکر ملو، مگر مکہ والوں سے بچ کر رہنا۔"
چنانچہ میں نے اپنے موزے پہنے، لاٹھی ہاتھ میں لی اور روانہ ہوگیا، جب میں مکہ پہنچا تو میں نے لوگوں کے سامنے ایسا ظاہر کیا، جیسے میں اس شخص کو جانتا ہی نہیں اور اس کے بارے میں پوچھنا بھی پسند نہیں کرتا - میں ایک ماہ تک مسجد حرام میں ٹھہرا رہا، میرے پاس سوائے زم زم کے کھانے کو کچھ نہیں تھا - اس کے باوجود میں زم زم کی برکت سے موٹا ہوگیا - میرے پیٹ کی سلوٹیں ختم ہوگئیں - مجھے بھوک کا بالکل احساس نہیں ہوتا تھا - ایک رات جب حرم میں کوئی طواف کرنے والا نہیں تھا، اللّٰہ کے رسول ایک ساتھی(ابوبکر رضی اللّٰہ عنہ) کے ساتھ وہاں آئے اور بیت اللٰہ کا طواف کرنے لگے - اس کے بعد آپ نے اور آپ کے ساتھی نے نماز پڑھی - جب آپ نماز سے فارغ ہوگئے تو میں آپ کے نزدیک چلا گیا اور بولا:
"السلام علیک یا رسول اللّٰہ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللّٰہ تعالٰی کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللٰہ علیہ وسلم اللّٰہ کے رسول ہیں -"
میں نے محسوس کیا، حضورنبی کریم صلی اللٰہ علیہ وسلم کے چہرے پر خوشی کے آثار نمودار ہوگئے - پھر آپ نے مجھ سے پوچھا:
"تم کون ہو -"
میں نے جواب میں کہا:
’’جی میں غفار قبیلے کا ہوں ‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:
’’یہاں کب سے آئے ہوئے ہو؟‘‘
میں نے عرض کیا:
تیس دن اور تیس راتوں سے یہاں ہوں ‘‘۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:
تمہیں کھانا کون کھلاتا ہے؟‘‘
میں نے عرض کی:
میرے پاس سوائے زم زم کے کوئی کھانا نہیں ،اس کو پی پی کر میں موٹا ہو گیا ہوں ، یہاں تک کہ میرے پیٹ کی سلوٹیں تک ختم ہو گئی ہیں اور مجھے بھوک کا بالکل احساس نہیں ہوتا‘‘۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا‘
مبارک ہو ،یہ زم زم بہترین کھانا اور ہر بیماری کی دوا ہے‘‘۔
زم زم کے بارے میں احادیث میں آتا ہے، اگر تم آب زمزم کو اس نیت سے پیو کہ اللہ تعالی تمہیں اس کے ذریعے بیماریوں سے شفا عطا فرمائے تواللہ تعالی شفا عطا فرماتا ہے اوراگر اس نیت سے پیا جائے کہ اس کے ذریعے پیٹ بھر جائے اور بھوک نہ رہے تو آدمی شکم سیر ہو جاتا ہے اور اگر اس نیت سے پیا جائے کہ پیاس کا اثر باقی نہ رہے تو پیاس ختم ہو جاتی ہے۔اس کے ذریعے اللہ تعالی نے اسماعیل علیہ السلام کو سیراب کیا تھا۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ جی بھر کر زم زم کا پانی پینا اپنے آپ کو نفاق سے دور کرنا ہے۔ اور ایک حدیث میں ہے کہ ہم میں اور منافقوں میں یہ فرق ہے کہ وہ لوگ زم زم سے سیرابی حاصل نہیں کرتے۔
ہاں تو بات ہو رہی تھی حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کی ۔۔۔کہا جاتا ہے ،ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ اسلام میں پیلے آدمی ہیں جنہوں نے آپ ﷺ کو اسلامی سلام کے الفاظ کے مطابق سلام کیا ۔ ان سے پہلے کسی نے آپ ﷺ کو ان الفاظ میں سلام نہیں کیا تھا۔
اب ابو ذر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ سے اس بات پر بیعت کی کہ اللہ تعالی کے معاملے میں وہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں گھبرائیں گے اور یہ کہ ہمیشہ حق اور سچی بات کہیں گے چاہے حق سننے والے کے لئے کتنا ہی کڑوا کیوں نہ ہو۔
یہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ملک شام کے علاقے میں ہجرت کر گئے تھے۔پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں انہیں شام سے واپس بلا لیا گیا اور پھر یہ ربذہ کے مقام پر آ کر رہنے لگے تھے۔ ربذہ کے مقام پر ہی ان کی وفات ہوئی تھی۔
ان کے ایمان لانے کے بارے میں ایک روایت یہ ہے کہ جب یہ مکہ معظمہ آئے تو ان کی ملاقات حضرت علیؓ سے ہوئی تھی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہی ان کو آپ ﷺ سے ملوایا تھا۔
ابو ذر ضی اللہ عنہ کہتے ہیں :
بیعت کرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ساتھ لے گئے۔ ایک جگہ حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ نے ایک دروازہ کھولا ،ہم اندر داخل ہوئے،ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ہمیں انگور پیش کیے۔ اس طرح یہ پہلا کھانا تھا جو میں نے مکہ میں آنے کے بعد کھایا۔‘‘
اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:
اے ابو ذررضی اللہ عنہ اس معاملے کو ابھی چھپائے رکھنا، اب تو تم اپنی قوم میں واپس جاؤ اور انہیں بتاؤ تاکہ وہ لوگ میرے پاس آ سکیں ، پھر جب تمہیں معلوم ہو کہ ہم نے خود اپنے معاملہ کا کھلم کھلا اعلان کر دیا ہے تو اس وقت تم ہمارے پاس آ جانا۔‘‘
آپ ﷺ کی بات سن کر حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ بولے:
’’قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو سچائی دے کر بھیجا، میں ان لوگوں کے درمیان کھڑے ہو کر پکار پکار کر اعلان کروں گا‘‘۔
حضرت ابو ذررضی اللہ عنہ کہتے ہیں ’’میں ایمان لانے والے دیہاتی لوگوں میں سے پانچواں آدمی تھا‘‘۔غرض جس وقت قریش کے لوگ حرم میں جمع ہوئے، انہوں نے بلند آواز میں چلا کر کہا:
میں گواہی دیتا ہوں سوالے اللہ کے کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کے رسول ہیں ‘‘۔
بلند آواز میں یہ اعلان سن کر قریشیوں نے کہا:
اس بددین کو پکڑ لو‘‘۔
انہوں نے حضرت ابو ذررضی اللہ عنہ کے پکڑ لیا اور بے انتہا مارا۔ایک روایت میں الفاظ یہ ہیں ،وہ لوگ ان پر چڑھ دوڑے۔ پوری قوت سے انہیں مارے لگے۔ یہاں تک کہ وہ بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ اس وقت حضرت عباس رضی اللہ عنہ درمیان میں آگئے۔ وہ ان پر جھک گئے اور قریشیوں سے کہا:
تمہارا برا ہو ! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ یہ شخص قبیلہ غفار سے ہے ان کا علاقہ تمہاری تجارت کا راستہ ہے۔‘‘
ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ قبیلہ غفار کے لوگ تمہارا راستہ بند کر دیں گے اس پر ان لوگوں نے انہیں چھوڑ دیا۔
ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس کے بعد میں زم زم کے کنویں کے پاس آیا اپنے بدن سے خون دھویا اگلے دن میں نے پھر اعلان کیا:
’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔‘‘
انہوں نے پھر مجھے مارا ۔ اس روز بھی حضرت عباس رضی اللہ عنہ ہی نے مجھے ان سے چھڑایا۔ پھر میں وہاں سے واپس ہوا اور اپنے بھائی انیس کے پاس آیا۔
No comments:
Post a Comment