Saturday, June 30, 2018

شان نزولِ سورة الفیل

کفار مکہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو مختلف طریقوں سے تکلیفیں پہنچاتے تھے جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بہت پریشان اور افسردہ ہو جاتے۔
اس پریشانی کو دور کرنے کے لیے اللہ تعالٰی نے سورہ الفیل نازل فرمائی جس میں ابرہہ اور اس کے لشکر کی ناکامی کا ذکر ہے۔
اس سورہ میں یہ بھی اشارہ ہےکہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ابرہہ کی شازشوں کو ناکام بنا دیا اسی طرح ان کفار مکہ کی چالیں بھی ناکام ہو جائیں گی۔
اس سورت کی تفصیل یہ ہے۔
یمن کا ایک بادشاہ تھا۔اس کا نام ابرہہ تھا۔
وہ اللہ کے گھر خانہ کعبہ کو گرانا چاہتا تھا۔اس نے ہاتھیوں کی فوج تیار کی۔
جب وہ مکہ پہنچا تو نبی کریم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دادا حضرت عبدالمطب پریشان ہو گئے۔
انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ خانہ کعبہ کی حفاظت کرے۔جب ابرہہ نے خانہ کعبہ کے قریب جانے کی کوشش کی تو اس کا ہاتھی آگے نہ بڑھ سکا۔
تھوڑی دیر میں اللَّهُ تعالیٰ نے چھوٹے چھوٹے پرندے آسمان پر بھیجے۔
ان پرندوں کی چونچ میں بہت چھوٹی چھوٹی کنکریاں تھیں۔ان پرندوں نے وہ کنکریاں ہاتھیوں پر برسانا شروع کر دیں۔کنکریاں لگتے ہی ہاتھی فوراً مرنے لگے۔ ان پرندوں کا نام ابابیل تھا۔
اس طرح اللَّهُ تعالیٰ نے اپنے گھر کی حفاظت کی۔
اور وہی واقعہ سودہ الفیل میں بیان کیا ہے۔

برائے مہربانی اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں ۔ تاکہ ہر ایک تک یہ میسیج پہنچ سکے۔
جزاک اللّہ خیر

No comments:

Post a Comment