اثار نبوت صلی اللہ علیہ وسلم سے حصول برکت
حضرت محمد بن عمران انصاری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا :
عَدَلَ إِلَيَ عَبْدُ اﷲِ بْنُ عَمَرَ وَأَنَا نَازِلٌ تَحْتَ سَرْحَةٍ بِطَرِيْقِ مَکَّةَ فَقَالَ : مَا أَنْزَلَکَ تَحْتَ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَقُلْةُ أَنْزَلَنِي ظِلُّهَا قَالَ عَبْدُاﷲِ : فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : إِذَا کُنْتَ بَيْنَ الْأَخْشَبَيْنِ مِنْ مِنًي وَنَفَخَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ فَإِنَّ هُنَاکَ وَادِيًا يُقَالُ لَه السُّرَّبَةُ وَفِي حَدِيْثِ الْحَارِثِ يُقَالُ لَهُ السُّرَرُ بِهِ سَرْحَةٌ سُرَّ تَحْتَهَا سَبْعُوْنَ نَبِيًّا.
’’میں مکۃ المکرمہ کے راستے میں ایک بڑے درخت کے نیچے ٹھہر گیا۔ حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہ اس موقع پر مجھ سے مخاطب ہوئے آپ نے دریافت فرمایا آپ اس درخت کے نیچے کیوں ٹھہرے ہوئے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ اس کے سایہ کی وجہ سے۔ حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما نے کہا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب آپ منیٰ کے ان دو پہاڑوں کے درمیان ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشرق کی طرف اشارہ فرمایا تو وہاں دو پہاڑوں کے درمیان ایک وادی ہے جس کو سُرَّبَہ یا سُرَرْ کہتے ہیں وہاں ایک درخت ہے جس کے نیچے ستر انبیاء علیہم السلام کی ناف کاٹی گئی (یعنی وہاں ان کی ولادت باسعادت ہوئی)۔‘‘
1. نسائي، السنن، کتاب مناسب الحج، باب : ما ذکر في مني، 5 : 248، رقم : 2995
2. مالک، الموطأ، 1 : 423، رقم : 949
3. أحمد بن حنبل، المسند، 2 : 138، رقم : 6232
1۔ اس حدیث کے تحت ابنِ عبدالبر نے شرح مؤطا التمہید میں لکھا ہے :
وفي هذا الحديث دليل علي التّبرّک بمواضع الأنبياء والصّالحين ومقامهم ومساکنهم.
’’اس حدیث میں انبیاء اور صالحین کے رہنے والی جگہوں، مقامات اور ان کی رہائش گاہوں سے تبرک کا ثبوت ہے۔‘‘
ابن عبدالبر، التمهيد، 13 : 66
2۔ اسی طرح شارحِ مؤطا محمد بن عبدالباقی بن یوسف الزرقانی (م 1122ھ) نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے :
وفيه التّبرّک بمواضع النبيّين.
’’پس اس حدیث میں انبیاء کے قیام گاہوں سے تبرک کا ثبوت بھی ہے۔‘‘
زرقاني، شرح الزرقاني، 2 : 530
3۔ امام سیوطی نے نسائی کی شرح میں اس حدیث کے تحت لکھا ہے :
يعني أنهم ولدوا تحتها فهو يصف برکتها.
’’اس سے مراد یہ ہے کہ اس درخت کے نیچے انبیاء کی ولادتِ مبارکہ ہوئی پس انہوں نے اس درخت کی برکت کو بیان کیا۔‘‘
سيوطي، شرح السيوطي، 5 : 249
حضرت محمد بن عمران انصاری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا :
عَدَلَ إِلَيَ عَبْدُ اﷲِ بْنُ عَمَرَ وَأَنَا نَازِلٌ تَحْتَ سَرْحَةٍ بِطَرِيْقِ مَکَّةَ فَقَالَ : مَا أَنْزَلَکَ تَحْتَ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَقُلْةُ أَنْزَلَنِي ظِلُّهَا قَالَ عَبْدُاﷲِ : فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : إِذَا کُنْتَ بَيْنَ الْأَخْشَبَيْنِ مِنْ مِنًي وَنَفَخَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ فَإِنَّ هُنَاکَ وَادِيًا يُقَالُ لَه السُّرَّبَةُ وَفِي حَدِيْثِ الْحَارِثِ يُقَالُ لَهُ السُّرَرُ بِهِ سَرْحَةٌ سُرَّ تَحْتَهَا سَبْعُوْنَ نَبِيًّا.
’’میں مکۃ المکرمہ کے راستے میں ایک بڑے درخت کے نیچے ٹھہر گیا۔ حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہ اس موقع پر مجھ سے مخاطب ہوئے آپ نے دریافت فرمایا آپ اس درخت کے نیچے کیوں ٹھہرے ہوئے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ اس کے سایہ کی وجہ سے۔ حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما نے کہا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب آپ منیٰ کے ان دو پہاڑوں کے درمیان ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشرق کی طرف اشارہ فرمایا تو وہاں دو پہاڑوں کے درمیان ایک وادی ہے جس کو سُرَّبَہ یا سُرَرْ کہتے ہیں وہاں ایک درخت ہے جس کے نیچے ستر انبیاء علیہم السلام کی ناف کاٹی گئی (یعنی وہاں ان کی ولادت باسعادت ہوئی)۔‘‘
1. نسائي، السنن، کتاب مناسب الحج، باب : ما ذکر في مني، 5 : 248، رقم : 2995
2. مالک، الموطأ، 1 : 423، رقم : 949
3. أحمد بن حنبل، المسند، 2 : 138، رقم : 6232
1۔ اس حدیث کے تحت ابنِ عبدالبر نے شرح مؤطا التمہید میں لکھا ہے :
وفي هذا الحديث دليل علي التّبرّک بمواضع الأنبياء والصّالحين ومقامهم ومساکنهم.
’’اس حدیث میں انبیاء اور صالحین کے رہنے والی جگہوں، مقامات اور ان کی رہائش گاہوں سے تبرک کا ثبوت ہے۔‘‘
ابن عبدالبر، التمهيد، 13 : 66
2۔ اسی طرح شارحِ مؤطا محمد بن عبدالباقی بن یوسف الزرقانی (م 1122ھ) نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے :
وفيه التّبرّک بمواضع النبيّين.
’’پس اس حدیث میں انبیاء کے قیام گاہوں سے تبرک کا ثبوت بھی ہے۔‘‘
زرقاني، شرح الزرقاني، 2 : 530
3۔ امام سیوطی نے نسائی کی شرح میں اس حدیث کے تحت لکھا ہے :
يعني أنهم ولدوا تحتها فهو يصف برکتها.
’’اس سے مراد یہ ہے کہ اس درخت کے نیچے انبیاء کی ولادتِ مبارکہ ہوئی پس انہوں نے اس درخت کی برکت کو بیان کیا۔‘‘
سيوطي، شرح السيوطي، 5 : 249

No comments:
Post a Comment