Thursday, June 28, 2018

جب وہ وفات پا جائے گی تو جنت میں جائے گی۔۔۔

ایک مرتبہ عطا بن ابی رباح حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھڑے تھے کہ سامنے سے کالے رنگ کی ایک عورت گزری- عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے عطا رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا- کہنے لگے: تمہارا کیا خیال ہے، کیوں نہ میں تمہیں ایک جنتی عورت دکھاؤں؟
حضرت عطا رضی اللہ عنہ نے تعجب سے کہا کہ ایک جنتی عورت؟
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا؛ ہاں ایک عورت ہے، جب وہ وفات پاجائے گی تو جنت میں جائے گی- عطا رضی اللہ عنہ نے تعجب کیا- کہنے لکے کہ مجھے دکھائيں وہ کون سی خوشنصیب خاتون ہے جو جنتی ہی، ہمارے درمیان رہتی ہے، بازاروں، گلیوں میں چلتی پھرتی ہے- عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کالے رنگ کی اس بوڑھی لونڈی کی طرف اشارہ کیا- کہنے لگے وہ بوڑھی عورت جنتی ہے-
حضرت عطا رضی اللہ عنہ  نے پوچھا:  آپ کو کیسے معلوم کہ وہ جنتی ہے؟
جواب دیا: کئی سال گزرے یہ کالی کلوٹی لونڈی اللہ کے رسولﷺ کے پاس آئی، تب اس کو مرگی کے دورے پڑتے تھے- اس نے اللہ کے رسولﷺ
کے پاس آ کر شفا کے لیے دعا کی درخواست کی وہ کہنے لگی: “میری زندگی اجیرن ہوگئی ہے، بچے مجھ سے ڈرتے ہیں میرا مذاق اڑاتے ہیں، مجھ پر ہنستے ہیں- میں بازار میں ہوں یا گھر میں، یا لوگوں کے پاس، اچانک مجھے دورہ پڑتا ہے اور مجھے ھوش نہیں رہتا- میں اس زندگی سے تنگ آچکی ہوں- اللہ کے رسولﷺ! اللہ سے دعا فرمائیں کا وہ مجھے شفا عطا فرمائے-”
اللہ کے رسولﷺ نے چاہا کہ صحابہ کرام رض کو صبر کا درس دیں- آپ نے فرمایا:
” اگر تم چاہو توصبر سے کام لو اور اس کے عوض تمہارے لیے جنت ہے، اور اگر چاہو تو میں تمہاری شفا کے لیے اللہ سے دعا کردوں-”
اللہ کے رسولﷺ نے جب بات ختم کی تو اس عورت نے غور و فکر کیا- سوچا، اپنے حالات اور اپنی بیماری کو دیکھ- آپﷺ کے فرمان کو اپنے دل میں دہرایا- اب وہ دونوں میں فیصلہ کرنا چاہ رہی تھی کہ کس کو اختیار کرے- صبر کو یا دنیاوی آرام کو؟ سوچا، غور کیا کہ دنیا تو فانی ہے، اسے ایک دن ختم ہوجانا ہے- میں جنت کی طلبگار کیوں نہ بنوں، اس کی چاہت کیوں نہ کروں؟ اور اس نے اپنا فیصہ صادر کر دیا:
” اے اللہ کے رسولﷺ میں صبر سے کام لے لوں گی، لیکن جب مجھے مرگی کا دورہ پڑتا ہے تو میں بے پرواہ ہوجاتی ہوں، اس کے آپ اللہ تعالی سے دعا فرمادیں کہ وہ مجھے بے پردہ نہ کرے-”
رسول اکرمﷺ نے اس کے حق میں دعا فرمادی-
( بخاری: 5652، مسلم:2576)
دنیا کی لعنتو ں سے مت ڈرو کہ وہ دھوئیں کی طرح دیکھتے دیکھتے غا ئب ہو جا تی ہیں اور وہ دن کو رات نہیں کر سکتیں _ بلکہ تم خدا کی لعنت سے ڈرو جو آسمان سے نا زل ہوتی اور جس پر پڑتی ہے اْس کی دونوں جہا نوں میں بیخ کنیْ کر جاتی ہے _ تم ریاکاری کے ساتھ اپنے تئیں بچا نہیں سکتے کیونکہ وہ خدا جو تمہا را خدا ہے اْس کی انسان کے پاتال تک نظر ہے کیا تم اْس کو دھوکا دے سکتے ہو؟ پس تم سیدے ہو جاو اور صاف ہو جاواور پاک ہو جاو اور کھرے ہو جاو اگر ایک ذرہ تیرگی تم میں با قی ہے تو وہ تمہاری ساری روشنی کو دور کر دے گی _
شب بخیر

No comments:

Post a Comment