ابن عساکر نے جلہمہ بن حرفطہ سے روایت کیا ہے کہ مکہ میں قحط آیا، لوگ قحط سے دوچار تھے۔ قریش نے کہا: ابو طالب! وادی قحط کا شکار ہے، بال بچے کال کی زد میں ہیں، چلئے بارش کی دعا کیجئے۔ ابو طالب ایک بچہ ساتھ لے کر برآمد ہوئے۔ بچہ ابر آلود سورج معلوم ہوتا تھا جس سے گھنا بادل ابھی ابھی چھٹا ہو۔اسکے ارد گرد اور بھی بچے تھے۔ ابو طالب نے اس بچے کا ہاتھ پکر کر اسکی پیٹھ کعبے کی دیوار سے ٹیک دی، بچے نے ان کی انگلی پکڑ رکھی تھے۔اس وقت آسمان پر بادل کا ایک ٹکڑا نہ تھا لیکن دیکھتے دیکھتے ادھر ادھر سے بادلوں کی آمد شروع ہو گئی اور ایسی دھواں دھار بارش ہوئی کہ وادی میں سیلاب آ گیا اور شہرو بیاباں شاداب ہو گئے۔بعد میں ابو طالب نے اس واقعے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح میں کہا تھا۔
وابیض یستسقی الغمام بوجھہ نمال الیتامی عصمۃ للارامل (15)
وہ خوبصورت ہیں۔انکے چہرے سے بارش کا فیضان طلب کیا جاتا ہے۔ یتیموں کے ماوی اور بیواؤں کے محافظ ہیں۔
(14) تلقیح الفہوم ص7، ابن ہشام 1/149
(15) مختصر السیرۃ شیخ عبداللہ ص 15،16

No comments:
Post a Comment