Sunday, June 24, 2018

دست مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم سے برکت کا حصول اہل مدینہ کا معمول

دستِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم سے برکت کا حصول اہلِ مدینہ کا معمول

1۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں :

کَانَ رَسُوْلَ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم إِذَا صَلَّي الْغَدَاةَ جَاءَ خَدَمُ الْمَدِيْنَةِ بِآنِيَتِهِمْ فِيْهَا الْمَاءُ، فَمَا يُؤْتَي بِإنَاءٍ إِلَّا غَمَسَ يَدَهُ فِيْهَا، فَرُبَّمَا جَاءُوْهُ فِي الْغَدَاةِ الْبَارِدَةِ فَيَغْمِسُ يَدَهْ فِيْهَا.

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب صبح کی نماز سے فارغ ہوتے تو خدّامِ مدینہ پانی سے بھرے ہوئے اپنے اپنے برتن لے آتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر برتن میں اپنا ہاتھ مبارک ڈبو دیتے۔ بسا اوقات سرد موسم کی صبح بھی ایسا ہی ہوتا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا ہاتھ ٹھنڈے پانی والے برتنوں میں بھی ڈبو دیتے۔‘‘

1. مسلم، الصحيح، کتاب الفضائل، باب : قرب النبي صلي الله عليه وآله وسلم من الناس وتبرکهم به، 4 : 1812، رقم : 2324
2. عبد بن حميد، المسند، 1 : 380، رقم : 1274
3. بيهقي، شعب الإيمان، 2 : 154، رقم : 1429

امام مسلم اس حدیث کو جس باب کے تحت لائے ہیں وہ ایمان افروز ہے جس سے ان کے اہلِ سنت و جماعت کے عقیدۂ راسخہ کا پتہ چلتا ہے۔

باب قُربِ النَّبِیّ عليه السلام مِنَ النَّاسِ وَ تَبَرُّکِهِم بِهِ.

’’لوگوں کا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قرب اور برکت حاصل کرنا۔‘‘

مسلم، الصحيح، 4 : 1812، رقم : 2324

اس حدیث کے تحت امام نووی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں :

وفيه التّبرّک بآثار الصّالحين وبيان ما کانت الصّحابة عليه من التّبرّک بآثاره صلي الله عليه وآله وسلم وتبرّکهم بإدخال يده الکريمة في الآنية.

’’اس حدیثِ مبارکہ میں آثار صالحین سے تبرک کا بیان ہے اور اس چیز کا بیان کہ صحابہث کس طرح حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آثار مبارکہ سے برکت حاصل کرتے تھے۔ مزید آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دستِ اقدس کو برتن میں ڈبو کر اس سے تبرک کا بیان ہے۔‘‘

نووي، شرح صحيح مسلم، 15 : 82

(2) حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کی شفایابی

2۔ حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے :

ذَهَبَتْ بِي خَالَتِي إِلَي رَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم فَقَالَتْ : يَا رَسُوْلَ اﷲِ، إِنَّ ابْنَ أُخْتِي وَجِعٌ فَمَسَحَ رَأْسِي وَ دَعَا لِي بِالْبَرَکَةِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ، فَشَرِبْتُ مِنْ وَضُوئِهِ، ثُمَّ قُمْتُ خَلْفَ ظَهْرِهِ، فَنَظَرْتُ إِلَي خَاتَمِهِ بَيْنَ کَتِفَيْهِ، مِثْلَ زِرِّ الْحَجَلَةِ.

’’میری خالہ جان مجھے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں لے گئیں اور عرض گزار ہوئیں : یا رسول اللہ صلی اﷲ علیک وسلم! میرا بھانجا بیمار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سر پر اپنا دستِ اقدس پھیرا اور میرے لئے برکت کی دعا فرمائی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وضو کا پانی پیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کھڑا ہو گیا تو دونوں مبارک کندھوں کے درمیان مہرِ نبوت کی زیارت کی جو کبوتروں کے انڈے یا حجلۂ عروسی کے جھالر جیسی تھی۔‘‘

1. بخاري، الصحيح، کتاب الدعوات، باب : الدُّعَاءِ لِلصِّبْيَانِ بِالْبَرَکَةِ، وَمسَحِْ رَؤُوْسِهِمْ، 5 : 2337، رقم : 5991،

(اس حدیث کو امام بخاری نے کتاب الوضوء، رقم : 187، کتاب المناقب، رقم : 3348 اور کتاب المرضی، رقم : 5346 میں بھی بیان کیا ہے۔ )

2. مسلم، الصحيح، کتاب الفضائل، باب : إثبات خاتَم النُّبُوَةِ، وصفته، ومحله من جسده صلي الله عليه وآله وسلم ، 4 : 1823، رقم : 2345
3. طبراني، المعجم الکبير، 7 : 157، رقم : 6682

No comments:

Post a Comment