بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حدیث نمبر: 267
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ، عَنْ سَفِينَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ، وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ.
سفینہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک مد پانی سے وضو فرماتے تھے، اور ایک صاع پانی سے غسل ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحیض ١٠ (٣٢٦) ، سنن الترمذی/الطہارة ٤٢ (٥٦) ، (تحفة الأشراف : ٤٤٧٩) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الطہارة ٤٤ (٩٢) ، مسند احمد (٥/٢٢٢) ، سنن الدارمی/الطہارة ٢٢ (٦٩٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: صاع : ایک معروف شرعی پیمانہ ہے، یہاں مراد صاع نبوی یا صاع مدنی ہے، جس کا وزن موجودہ مستعمل اوزان سے تقریباً ڈھائی کلو گرام ہوتا ہے، اور مد : جو صاع نبوی کا چوتھا حصہ ہوتا ہے، جس کا وزن موجودہ مستعمل وزن سے تقریباً چھ سو پچیس ( ٦٢٥ ) گرام کے قریب ہوتا ہے۔
It was narrated that Safinah said: ’The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) used to perform ablution with a Mudd (of water) and bath with a Sã’” (Sahih)
[Sunan Ibn Majah پاکی کا بیان]
حدیث نمبر: 267
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ، عَنْ سَفِينَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ، وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ.
سفینہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک مد پانی سے وضو فرماتے تھے، اور ایک صاع پانی سے غسل ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحیض ١٠ (٣٢٦) ، سنن الترمذی/الطہارة ٤٢ (٥٦) ، (تحفة الأشراف : ٤٤٧٩) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الطہارة ٤٤ (٩٢) ، مسند احمد (٥/٢٢٢) ، سنن الدارمی/الطہارة ٢٢ (٦٩٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: صاع : ایک معروف شرعی پیمانہ ہے، یہاں مراد صاع نبوی یا صاع مدنی ہے، جس کا وزن موجودہ مستعمل اوزان سے تقریباً ڈھائی کلو گرام ہوتا ہے، اور مد : جو صاع نبوی کا چوتھا حصہ ہوتا ہے، جس کا وزن موجودہ مستعمل وزن سے تقریباً چھ سو پچیس ( ٦٢٥ ) گرام کے قریب ہوتا ہے۔
It was narrated that Safinah said: ’The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) used to perform ablution with a Mudd (of water) and bath with a Sã’” (Sahih)
[Sunan Ibn Majah پاکی کا بیان]

No comments:
Post a Comment