انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام زندہ ہیں
انبیا ءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام پرمَحْض ایک آن موت طاری ہوتی ہے پھر فوراً اُن کو ویسی ہی حیات یعنی زندَگی عطا فرمادی جاتی ہے۔جیسی دُنیا میں تھی۔ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی حیات(عالَم برزَخ کی زندَگی) روحانی، جسمانی، دنیاوی ہے ، (یہ حَضرا ت انبیاء)بعینہٖ اُسی طرح زندہ ہوتے ہیں ،جس طرح دُنیامیں تھے(فتاوٰی رضویہ ج ۲۹ص۵۴۵)سرکارِ مدینۂ منوَّرہ، سردارِ مکۂ مکرَّمہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ ذیشان ہے: اِنَّ اللہَ حَرَّمَ عَلَی الْاَرْضِِ اَنْ تَــــأْکُلَ اَجْسَادَ الْانبیاءِ فَنَبِیُّ اللہِ حَیٌّ یُّرْزَقُ یعنی اللہ تَعَالٰی نے انبیا ء کے اَجسام(یعنی جِسموں ) کو مٹّی پر حرام فرمادیا ہے،اللہ کے نبی زندہ رَہتے ہیں انہیں رِزْق دیا جاتا ہے۔ (ابن ماجہ ج۲ص۲۹۱ حدیث۱۶۳۷)
انبیا ءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام پرمَحْض ایک آن موت طاری ہوتی ہے پھر فوراً اُن کو ویسی ہی حیات یعنی زندَگی عطا فرمادی جاتی ہے۔جیسی دُنیا میں تھی۔ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی حیات(عالَم برزَخ کی زندَگی) روحانی، جسمانی، دنیاوی ہے ، (یہ حَضرا ت انبیاء)بعینہٖ اُسی طرح زندہ ہوتے ہیں ،جس طرح دُنیامیں تھے(فتاوٰی رضویہ ج ۲۹ص۵۴۵)سرکارِ مدینۂ منوَّرہ، سردارِ مکۂ مکرَّمہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ ذیشان ہے: اِنَّ اللہَ حَرَّمَ عَلَی الْاَرْضِِ اَنْ تَــــأْکُلَ اَجْسَادَ الْانبیاءِ فَنَبِیُّ اللہِ حَیٌّ یُّرْزَقُ یعنی اللہ تَعَالٰی نے انبیا ء کے اَجسام(یعنی جِسموں ) کو مٹّی پر حرام فرمادیا ہے،اللہ کے نبی زندہ رَہتے ہیں انہیں رِزْق دیا جاتا ہے۔ (ابن ماجہ ج۲ص۲۹۱ حدیث۱۶۳۷)

No comments:
Post a Comment